چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورہ برونائی، سلطانِ برونائی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے برونائی کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،ملاقات میں برونائی دارالسلام کے سلطان نے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار کو سراہا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے برونائی دارالسلام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سلطانِ برونائی سے ملاقات کی، ملاقات میں برونائی دارالسلام کے سلطان نے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار کو سراہا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان اور برونائی دارالسلام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، علاوہ ازیں انہوں نے وزیرِ دفاع اور کمانڈر رائل برونائی آرمڈ فورسز سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے موارا نیول بیس پر موجود دارالامان کا دورہ کیا اور ڈیفنس اکیڈمی رائل برونائی آرمڈ فورسز میں شرکا سے خطاب کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان کے علاقائی امن و استحکام میں کردار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اکیڈمی کے کمانڈ اینڈ سٹاف کورس کے طلبہ سے بھی بات چیت کی، جن میں 19 مختلف ممالک کے افسران بھی شامل تھے۔ اس دوران ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے وفود نے عالمی و علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان برونائی کے ساتھ اپنے دفاعی اور عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر برونائی کی سول و عسکری قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی، دورے کے دوران جنرل ساحر شمشاد مرزا کی برونائی آرمڈ فورسز کے ہیڈکوارٹرز آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔