data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ترکیے میں ملاقات کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے وزیرخارجہ برادر سید عباس عراقچی سے استنبول میں اسلامی سربراہی کانفرنس (او آئی سی) کے 51 ویں وزرائے خارجہ کانفرنس میں غیررسمی ملاقات ہوئی۔ملاقات میں انہوں نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر بلاجواز اور غیرقانونی حملوں پر اظہار مذمت کرتے ہوئے ایران کے حق دفاع کی حمایت کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ نے خطے میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر ایرانی کے مؤقف سے آگاہ کیا، او آئی سی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیل کے بلاجواز اور غیرقانونی حملوں اور اس کے ساتھ ہی ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کی۔قبل ازیں گزشتہ روز وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں خطاب کے دوران اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی، اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کا امن خطرے سے دو چار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ