اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، امریکی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ترکیے میں ملاقات کی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے وزیرخارجہ برادر سید عباس عراقچی سے استنبول میں اسلامی سربراہی کانفرنس (او آئی سی) کے 51 ویں وزرائے خارجہ کانفرنس میں غیررسمی ملاقات ہوئی۔ملاقات میں انہوں نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر بلاجواز اور غیرقانونی حملوں پر اظہار مذمت کرتے ہوئے ایران کے حق دفاع کی حمایت کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ نے خطے میں ابھرتی ہوئی صورت حال پر ایرانی کے مؤقف سے آگاہ کیا، او آئی سی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیل کے بلاجواز اور غیرقانونی حملوں اور اس کے ساتھ ہی ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کی۔قبل ازیں گزشتہ روز وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں خطاب کے دوران اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی، اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کا امن خطرے سے دو چار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔