ایران اسرائیل کشیدگی، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو قومی سلامتی کمیٹی کا اہم ترین اجلاس طلب کر لیا۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کا اجلاس کل 12 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سول قیادت شرکت کرے گی جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنا حالیہ دورہ امریکہ پر شرکاء کو اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران اسرائیل امریکہ تنازع پر تفصیلی مشاورت ہو گی جبکہ ایران کی سفارتی حمایت اور دیگر اہم امور پر بڑے فیصلوں کا امکان ہے۔
اجلاس میں ملکی داخلی اور سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ سمیت دیگر شخصیات بھی شرکت کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔