ایران نے جدید سائنسی انداز میں اپنی طاقت کامظاہرہ کیا: علامہ شہنشاہ نقوی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
علامہ شہنشاہ نقوی—فائل فوٹو
شیعہ علماء کونسل نے کراچی میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ جہادِ فی سبیل اللہ کتابوں سے نکالا جا رہا ہے، جہاد اللّٰہ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاد مضبوط عمل ہے جو نبیٔ کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی یاد تازہ کرتا ہے۔
علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ جدید سائنسی انداز میں ایران نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، ایران امریکا کی شکست کا اعلان کر چکا ہے، 40 سال پہلے ایران نے امریکی سفارت خانہ بند کر کے اسے شکست دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کا مطالبہ کیا جس پر تنقید ہو رہی ہے، امریکا اسرائیل ایران جنگ میں فریق بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔