ایران نے موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کے سربراہ کو پھانسی دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز

تہران:ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق رکھنے والے سائبر ٹیم کے سربراہ محمد امین شایستہ کو سزائے موت دے دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق محمدامین شایستہ کو 2023 کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اسرائیل کے لیے سائبر جاسوسی کا الزام تھا۔

ایرانی عدلیہ کے مطابق شایستہ نے موساد کے لیے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے جرم میں مکمل فوجداری کارروائی اور سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔13 جون کو اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے کم از کم تین افراد کو موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک اور موساد ایجنٹ، مجید موسیبی کو سزائے موت دی گئی، جسے حساس جوہری معلومات افشا کرنے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھی ایران، موساد سے وابستہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کے خلاف سخت کارروائیاں کرتا آیا ہے، جنہیں ایرانی سیکیورٹی ادارے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا: بلاول پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں.

.. کولمبیا میں 57 فوجیوں کو شہریوں نے اغوا کر لیا صہیونی دشمن نے سنگین غلطی کی، سزا دی جائے گی: خامنہ ای امریکی حملے بے سود؟ ’ایران اب بھی جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے‘، عالمی تجزیہ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج، علاقائی صورتحال پر مشاورت ہوگی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایران نے

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار