چترال نے گلگت کو ہرا کر شندور پولو فیسٹیول 2025 جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
گلگت:
شندور پولو فیسٹیول 2025 اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
دنیا کے بلند ترین پولو میدان شندور میں ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں دونوں ٹیموں کے درمیان پولو فیسٹیول 2025 کا فائنل میچ کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں چترال کی ٹیم نے گلگت کی ٹیم کو 7 کے مقابلے میں 9 گول سے شکست دی۔
رواں سال گلگت کی اے ٹیم نے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فائنل میچ میں چترال کی ٹیم نے دفاع کرتے ہوئے گلگت کی ٹیم کا مقابلہ کیا اور کئی گول بچائے۔
خیبرپختونخوا حکومت، گلگت بلتستان حکومت، پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کے تعاون سے شندور پولو فیسٹیول 20 تا 22 جون منعقد ہوا۔ آخری روز تقریب کے مہمان خصوصی کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری تھے۔
اختتامی تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے حسبِ روایت پاک آرمی کی ایس ایس جی شہباز ٹیم نے فری فال جمپس کا مظاہرہ کیا، آرمی سکول آف فزیکل ٹریننگ ، کاکول کی ٹیم نے پیرا گلائڈنگ کا خوبصورت مظاہرہ بھی کیا۔
علاوہ ازیں روایتی کیلاشی رقص بھی پیش کیا گیا جس سے حاضرین انتہائی محظوظ ہوئے، مہمانِ خصوصی نے پولو ٹیموں کے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر پشاور نے تمام حاضرین، سول انتظامیہ اور خصوصی طور پر غیر ملکی شائقین کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولو فیسٹیول ٹیم نے کی ٹیم
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔