’جنگ کبھی جمہوریت، انسانی حقوق یا آزادی نہیں لاتی‘ ایرانی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی اسرائیل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایرانی انسانی حقوق کی علمبردار اور نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے آزادی یا جمہوریت کی طرف نہیں، تباہی کی طرف قدم قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر مختصر بیان میں نرگس محمدی نے کہا کہ جو بات مجھے یقینی طور پر معلوم ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کبھی جمہوریت، انسانی حقوق یا آزادی نہیں لاتی۔
نوبل امن انعام حاصل کرنے والی نرگس محمدی نے ناروے کے اخبار کلاسے کمپن (Klassekampen) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور امریکی پالیسیوں کو بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ہمیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں، اور ہمیں آزادی کا جھوٹا وعدہ دے رہے ہیں۔ انہیں یقین نہیں کہ امریکی بم ایرانی عوام کو آزادی دلا سکتے ہیں۔
What I am certain of is that war never brings democracy, human rights, or freedom.
— Narges Mohammadi | نرگس محمدی (@nargesfnd) June 23, 2025
نرگس محمدی نہ صرف ایرانی حکومت کی ناقد رہی ہیں بلکہ خواتین کے حقوق کی نمایاں آواز کے طور پر کئی بار جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ ایران میں جبر و استبداد کے خلاف اپنی جدوجہد کے باعث عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔
ان کا حالیہ بیان ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتے تناؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جبکہ ایران میں سیاسی و سماجی حلقوں میں اس جنگی صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Narges Mohammadi اسرائیل امریکا ایران نرگس محمدی نوبل انعام نوبل انعام یافتہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران نوبل انعام یافتہ
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔