مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ کے اس حملے سے نیتن یاہو کی مدد ہوئی ہے جو فلسطینیوں کو ذبح کر رہے ہیں، غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے اور امریکہ کو اسکی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے خبردار کیا کہ مغربی ایشیا میں ایک مکمل جنگ بھارت کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں رہنے والے 16 ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کے اقتصادی مفادات کو بھی بری طرح متاثر کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستانیوں سے پوچھنا چاہیئے کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام ملے۔ اسد الدین اویسی نے بتایا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ خلیج اور مشرق وسطی میں 16 ملین سے زیادہ بھارتی شہری رہتے ہیں اور اگر اس خطے میں مکمل جنگ چھڑ جاتی ہے، جس کا بدقسمتی سے بہت امکان ہے، تو اس کا وہاں رہنے والے بھارتیوں پر سنگین اثر پڑے گا۔ مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے ان مالی خطرات پر بھی روشنی ڈالی جن کا بھارت کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارتی کمپنیوں نے ان تمام عرب ممالک یا خلیجی ممالک میں جو سرمایہ کاری کی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ جو اسی خطے سے آتا ہے، سب خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو "بوگی" قرار دیتے ہوئے انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا موازنہ عراق پر امریکی قیادت میں کئے جانے والے حملے سے کیا، جب مغربی ممالک نے عراق سے متعلق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹے دعوے کئے تھے۔ ایران میں تین نیوکلیئر پلانٹس پر امریکی حملے پر مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمیں پاکستانیوں سے پوچھنا چاہیئے کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام ملے۔ اسد الدین اویسی نے مزید کہا "کیا پاکستان کے جنرل (آرمی چیف عاصم منیر) نے اسی کے لئے امریکی صدر کے ساتھ ڈنر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ سب بے نقاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس حملے سے نیتن یاہو کی مدد ہوئی ہے جو فلسطینیوں کو ذبح کر رہے ہیں، غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے اور امریکہ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل