ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل کا ایرانی سپریم  لیڈر ایت اللہ خامنائی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا شرمناک فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، ایرانی سپریم لیڈر اور ہم امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ایت اللہ خامنائی پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہم وقت تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اتحاد امت فورم کے زیراہتمام ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملوں کے خلاف پریس کلب ملتان تا چوک نواں شہر مردہ باد امریکہ و اسرائیل ریلی نکالی گئی، جس میں مرد و خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید اقبال احمد رضوی، آئی ایس او پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری حیدر ثقفی، صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، مرکزی صدر عزاداری ونگ علامہ اقتدار حسین نقوی، شیعہ علما کونسل کے رہنما مولانا مظہر عباس ساجد، شیعہ علما کونسل کے ترجمان بشارت عباس قریشی، صوبائی صدر عزاداری ونگ انجینئر سخاوت علی سیال، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے علامہ خالد فاروقی، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما سلیم عباس صدیقی، مولانا غلام جعفر انصاری، مولانا امیر حسین ساقی ودیگر نے کی۔ احتجاجی ریلی کے موقع پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی گئی، امریکی اور اسرائیلی پرچم نذرآتش کیا گیا اور تجدید عہد کیا گیا کہ پاکستان سمیت امت مسلمہ کی پوری شیعہ و سنی قوم ایرانی سپریم لیڈر ایت اللہ سید خامنائی اور ایرانی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ ایران پر صرف امریکہ حملہ نہیں بلکہ عالم اسلام پر حملہ ہے، اج وقت کا تقاضہ ہے کہ پوری امت مسلمہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسوہ شبیری پر عمل کرتے ہوئے متحد ہو جائیں کیونکہ امریکہ و اسرائیل عالمی دہشت گرد ہیں جو امت مسلمہ کے امن کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں، اسرائیل خونخوار درندہ ہے جو کئی دہائیوں سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کے ساتھ ساتھ اب ایران پر حملہ اور ہوا ہے، اب عالمی دہشت گرد امریکہ بھی شامل ہو گیا ہے، آج اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی اور ان کو لگام نہ دی گئی تو خدانخواستہ کل کسی اور کی باری آسکتی ہے، ہم ان طاقتوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام پرائز نہ دیا جائے اور نوبل پرائز دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے، حکمران ہوش کے ناخون لیں اور سرکاری سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ڈٹ جانے کا اعلان کریں۔

 انہوں نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل کا ایرانی سپریم  لیڈر ایت اللہ خامنائی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا شرمناک فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، ایرانی سپریم لیڈر اور ہم امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ایت اللہ خامنائی پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہم وقت تیار ہیں، امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور وہ دن دور نہیں جب امریکہ اور اسرائیل کا نام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور دنیا میں ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ اور اسرائیل امریکہ و اسرائیل ایت اللہ خامنائی ایرانی سپریم ایران پر کے خلاف

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران