امریکا کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کا اسرائیل پر شدید حملہ، 24 اسرائیلی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی جانب سے ایران کی حساس جوہری تنصیبات پر فضائی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال شدید کشیدگی اختیار کر گئی ہے، ایران نے ردعمل میں اسرائیل پر خیبر سمیت درجنوں بیلسٹک میزائل فائر کر دیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ نے اپنے جدید ترین B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کے تین اہم ایٹمی مراکز— فردو، نطنز اور اصفہان—کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ فردو کا ایٹمی پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے اس حملے کو اعلانِ جنگ قرار دیا جا رہا ہے، ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حکومت نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں امریکی مفادات یا شہریوں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے نتائج واشنگٹن کے لیے سنگین ہوں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اب خطے میں ہر امریکی فوجی اور شہری ایران کے لیے ’’ممکنہ ہدف‘‘ بن چکا ہے اور امریکا کے کسی بھی اقدام کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔ ایران نے اس پیش رفت کے بعد اسرائیل پر کئی میزائل حملے کیے جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے خیبر بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔