Jasarat News:
2026-06-03@05:32:22 GMT

تصادم اور تغیر کا زمانہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مئی اور جون ۲۰۲۵ کے دوران عالمی منظرنامہ شدید کشیدگی، معاشی غیر یقینی، ماحولیاتی بگاڑ اور سماجی اُبال سے عبارت رہا۔ خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تصادم نے دنیا کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اسرائیل نے ایران پر حملے میں پہل کی اور شدید حملہ کرکے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر بلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، اسرائیل نے ایران کے میزائل اور جوہری تنصیبات اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کی جانب سے ہائپرسونک میزائل رکھنے کی اطلات پر بین الاقوامی ماہرین نے شکوک ظاہر کیے، تاہم یہ اطلاع بھی جنگی نفسیات کی ایک مثال بن کر سامنے آئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ’’بے شرط ہتھیار بندی اور جوہری پروگرام سے دستبرداری‘‘ کا مطالبہ کیا، مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی امریکی بحری افواج اور میزائل بیڑے تعینات ہیں۔ یہ تمام تر خطرناک صورتحال نہ صرف فوجی تصادم بلکہ سائبر جنگ کی بھی پیش گوئی کر رہی ہے، کیونکہ امریکی سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، روس، چین اور ناٹو جیسے عالمی پلیئرز کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف G7 نے اسرائیل کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیا، وہیں دوسری طرف اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیلی کارروائیوں کو ممکنہ جنگی جرائم کے دائرے میں پرکھنا شروع کر دیا۔ اس سفارتی تقسیم سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سیاست کس قدر مخمصے میں مبتلا ہے۔
اس کشیدگی کا شدید اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق تیل کی طلب اور رسد کے درمیان شدید عدم توازن نے مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا۔ عالمی سطح پر افراط زر کی لہر، شرحِ سود کی پالیسیوں میں تعطل، اور تجارتی بے یقینی نے عالمی معیشت کو نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکا میں فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ مستقبل قریب میں ممکنہ کمی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ برطانیہ، چین، جاپان اور یورپی مرکزی بینکوں میں بھی افراط زر اور معاشی نمو کے مابین توازن کی جدوجہد جاری ہے۔ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد تجارتی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی تجارتی نظام میں مزید بے چینی پیدا کی ہے۔ تجارتی پابندیاں، سیاسی دھمکیاں اور اتحادیوں میں اعتماد کی کمی نے معاشی عدم استحکام کو مزید تقویت دی ہے۔
ادھر ماحولیاتی تبدیلی کی ہولناکی بھی روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا شدہ گرین ہاؤس گیسز نے قدرتی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کرڈ پول کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ تا ۲۰۲۵ کے گلوبل کبلیکچر ایونٹ نے دنیا بھر کے ۸۴ فی صد مرجانی ریفز کو سفید کر دیا، جس سے سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ جنگلات کی آگ، شدید گرمی، خشک سالی اور طوفانی بارشوں جیسے مظاہر ماحولیاتی تبدیلی کی ناقابل تردید علامات بن چکے ہیں۔ اس بگڑتے ماحولیاتی منظرنامے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کچھ اقدامات بھی سامنے آئے ہیں، جیسے ’’ہائی سیز ٹریٹی‘‘ جسے اب تک ۴۹ ممالک نے منظور کیا ہے۔ یہ معاہدہ سمندری حیات، ماحول اور قدرتی ذخائر کے تحفظ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، مگر زمینی سطح پر اس کے عملی اثرات اب تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔
عالمی سیاسی اور معاشی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے عوامی صحت، صفائی اور ثقافتی بیداری کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کا مقصد کورونا کے بعد صحت کے نظام کو از سر نو استوار کرنا رہا ہے۔ فضائی آلودگی کے خلاف کانفرنسوں اور ویب نارز کے ذریعے دنیا بھر میں بیداری پھیلانے کی کوشش جاری ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ہر سال تقریباً ۷ ملین افراد قبل از وقت اموات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ادھر سماجی سطح پر انسانی حقوق اور عوامی تحریکیں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی قوت کس قدر فیصلہ کن ہو چکی ہے۔ فلسطینی عوام کے حق میں ’’گلوبل مارچ ٹو غزہ‘‘ کے تحت ہزاروں افراد نے مصر کے راستے انسانی امداد کی راہ داری کھولنے کا مطالبہ کیا، جو نہ صرف انسان دوستی بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کی علامت بھی ہے۔ صحت کے شعبے میں تشویشناک امر یہ ہے کہ نوجوانوں میں کولوریکل کینسر کی شرح بڑھ رہی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں غربت، ناقص غذائی نظام، اور صحت کی سہولتیں کی عدم دستیابی شامل ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف صحت عامہ کے لیے ایک وارننگ ہے بلکہ معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچے کی ناکامی کا آئینہ بھی ہے۔
مستقبل کے امکانات کے حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو واضح ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی علاقائی توازن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اگر امریکا یا ناٹو کی براہ راست مداخلت ہوئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں سفارتی حکمت ِ عملی کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم یہ تنازع اب بھی کسی پائیدار حل سے محروم ہے۔
عالمی معیشت کو سیاسی غیر یقینی، تجارتی پابندیوں، تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور افراط زر کے دباؤ نے غیر متوازن کر دیا ہے۔ ایسے میں مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں، عالمی تجارتی تعاون، اور بین الاقوامی اداروں کی ہم آہنگی ہی استحکام کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ ماحولیاتی چیلنج دنیا کے لیے سب سے بڑی آزمائش بنتے جا رہے ہیں۔ فضائی آلودگی، سمندری بگاڑ، اور موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر حقیقی، منظم اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے، بصورتِ دیگر انسانی بقا ہی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ سماجی تحریکوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ آج کا شہری، خاص طور پر نوجوان نسل، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف خاموش نہیں رہتی۔ وہ سوشل میڈیا، احتجاج، اور بین الاقوامی مہمات کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو حکومتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ مجموعی طور پر عالمی حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ بتاتا ہے کہ دنیا اس وقت ایک گہرے عبوری دور سے گزر رہی ہے، جہاں ایک طرف جنگ، سیاسی کشیدگی، ماحولیاتی تباہی اور صحت کے خطرات ہیں، تو دوسری طرف عوامی شعور، ثقافتی بیداری، اور عالمی تعاون کی امید بھی زندہ ہے۔ اگر دنیا مشترکہ حکمت ِ عملی، اخلاقی جرأت اور اجتماعی وژن کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران مواقع میں بھی بدل سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ الجھاؤ مزید پیچیدگیوں کو جنم دے گا اور انسانی تاریخ ایک بار پھر انتشار، تباہی اور بے یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ ہمیں اس نازک نیلے سیارے کے تحفظ کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کو ہرصورت میں یقینی بنانا ہوگا لیکن افسوس صد افسوس ہم اس نعمت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہر گزرتے وقت کے ساتھ روز بروز ہلاکت سے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے لیے کر دیا رہی ہے

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار