Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:58:44 GMT

ایران کیخلاف امریکی جارحیت ہر دنیا چیخ اٹھی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

ایران کیخلاف امریکی جارحیت ہر دنیا چیخ اٹھی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کی حساس جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

دنیا بھر کے کئی رہنماؤں، تنظیموں اور حکومتوں نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اس حملے نے نہ صرف خطے میں ایک نئی جنگ کے خطرے کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

کئی ممالک نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

کیوبا: انسانیت کو بحران میں دھکیلنے والا عمل

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکی بمباری کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ دنیا کو ایک ایسے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے جس کے نتائج ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔

چلی: طاقت قانون کی خلاف ورزی کا جواز نہیں

چلی کے صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چلی اس امریکی حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ طاقتور ہونا کسی کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دیتا، یہاں تک کہ اگر وہ امریکا ہی کیوں نہ ہو۔

میکسیکو: کشیدگی کم کرنے کی اپیل

میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پرامن بقائے باہمی اور بات چیت کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے حامی ہیں۔ ریاستوں کے درمیان امن ہماری اولین ترجیح ہے۔

وینزویلا: اسرائیلی ایما پر کارروائی کی مذمت

وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل نے ٹیلیگرام پر کہا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کے کہنے پر کیا گیا، ہم اس وحشیانہ کارروائی کی سخت اور مکمل مذمت کرتے ہیں۔ ہم فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا ہے کہ ہم ایران پر حملے کو انتہائی تشویش ناک سمجھتے ہیں۔ ہم سفارتی حل کے حق میں ہیں اور تمام فریقین سے مکالمے کی طرف لوٹنے کی اپیل کرتے ہیں۔

آسٹریلیا: ایران کے پروگرام پر تحفظات، مگر جنگ نہیں

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، لیکن ہم کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیتے ہیں۔ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں۔

حماس کا ردعمل: شدید مذمت

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے مسلم دنیا پر جارحیت قرار دیا ہے۔

امریکا کے اس اچانک اور جارحانہ اقدام کے بعد مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ممکنہ جنگ کی دہلیز پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی برادری کا عمومی رجحان سفارت کاری، بات چیت اور پرامن حل کی طرف ہے، جبکہ امریکا کا موقف اب تک جارحانہ اور یکطرفہ دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خلاف ورزی کہا ہے کہ دیا ہے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی