امریکی جارحیت کے خلاف ردعمل کا تعین مسلح افواج کرے گی، ایران
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے نمائندے امیر سعید ایراوانی نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد بہانے کے تحت جنگ مسلط کی ہے۔
ایراوانی نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور امریکہ کی کھلی جارحیت کے خلاف اس کا ردعمل متناسب" ہوگا جس کا تعین ایرانی مسلح افواج کریں گی۔
اپنے طویل بیان میں ایراوانی نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے امریکہ کو ایک اور مہنگی اور بے بنیاد جنگ میں دھکیل دیا ہے۔
ایران کے نمائندے نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" ہیں۔
ایراوانی نے اسرائیل پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے ایران کے بارے میں جھوٹا اور غلط بیانیہ پھیلایا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہے۔
ایران کے نمائندے نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں اور کچھ مغربی ممالک، بشمول فرانس اور برطانیہ، کی خاموشی، دوہرا معیار اور مداخلت بھی اتنی ہی قابلِ مذمت ہے۔"
اپنے خطاب کے اختتام پر امیر سعید ایراوانی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایراوانی نے ایران کے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔