WE News:
2026-06-02@23:26:08 GMT

کوہاٹ برن سینٹر 13 سال بعد بھی نامکمل، مریض دربدر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

2011 میں کوہاٹ کے لیے برن سینٹر کا افتتاح ہوا، عمارت تو بن گئی، مگر افسوس کہ یہ منصوبہ آج 2025 میں بھی مکمل نہ ہو سکا۔ 13 سال گزر گئے، لیکن نہ اسٹاف تعینات ہوا، نہ سہولیات فراہم کی گئیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال جھلسنے والے مریض یا تو پشاور لے جائے جاتے ہیں یا سینکڑوں کلومیٹر دور کھاریاں پہنچانا پڑتا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے نائب صدر ڈاکٹر عبید آفریدی نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ روز ہمارے پاس برن کے کیسز آتے ہیں، شدید جھلسنے والے مریضوں کو یہاں مناسب سہولت نہ ہونے کے باعث فوری ریفر کرنا پڑتا ہے۔

’حال ہی میں عباس آفریدی کا واقعہ سامنے آیا جسے بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے کھاریاں لے جانا پڑا۔ حکومتِ خیبرپختونخوا صحت کے معاملے میں بالکل غیر سنجیدہ ہے، برن سینٹر جیسے اہم منصوبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔‘

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کوہاٹ کے صدر مسعود خلیل نے بتایا کہ یہ منصوبہ 2011 میں ہماری ایم این اے خورشید بیگم کے دور میں شروع ہوا، ہم نے عوامی ضرورت کے تحت یہ پراجیکٹ منظور کرایا، مگر 2013 کے بعد سے پی ٹی آئی کی حکومت مسلسل اقتدار میں رہی، اور ان 13 سالوں میں برن سینٹر پر کوئی کام نہیں کیا گیا جو بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسی تناظر میں ہم نے چیمبر آف کامرس کوہاٹ کے صدر رشید پراچہ سے بھی بات کی، جو سول سوسائٹی کی نمائندگی کررہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ برن سینٹر کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے کوہاٹ میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جھلسنے کے کیسز میں فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں ممکن ہی نہیں۔ ہم بارہا حکومت کو یاد دہانی کروا چکے ہیں، لیکن نہ بجٹ دیا جاتا ہے، نہ توجہ۔ یہ عوام کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اے این پی پشاور پی ٹی آئی حکومت جلے ہوئے مریض خیبرپختونخوا کوہاٹ بن سینٹر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے این پی پشاور پی ٹی ا ئی حکومت جلے ہوئے مریض خیبرپختونخوا کوہاٹ بن سینٹر وی نیوز

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے