کراچی:

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے ایم فل  اور پی ایچ ڈی 2025 کے کے ایڈمیشن پروگرام میں 10 کے قریب شعبوں میں ڈاکٹریٹ پروگرام کے داخلے روک دیے ہیں یہ داخلے متعلقہ شعبوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی مطلوبہ تعداد موجود نہ ہونے کی بنا پر روکے گئے ہیں، اس سلسلے میں فیصلہ بورڈ برائے ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے وائس چانسلر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔

 "ایکسپریس" سے بات چیت کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے داخلے روکے جانے کی تصدیق کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل یونیورسٹی نے لاء اسکول میں بھی پی ایچ ڈی کے داخلے روکے تھے کیونکہ مذکورہ شعبے میں بھی پی ایچ ڈی مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں، اگر ہم ان شعبوں میں داخلے دے دیتے ہیں تو یہاں طلبہ کو ریسرچ اور کورس ورک کرانے کے لیے بھی پی ایچ ڈی فیکلٹی موجود نہیں ہوگی۔

اس لیے یہ فیصلہ عارضی طور پر فیکلٹی کی دستیابی تک کیا گیا ہے جن شعبوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے روکے گئے ہیں ان میں ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس، کرمنالوجی، شیخ زید اسلامک ریسرچ سینٹر(اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس پروگرام) جبکہ جن شعبوں میں پی ایچ ڈی پروگرام روکے گئے ہیں اور صرف ایم فل آفر کیا جارہا ہے ان میں انگریزی لسانیات، جنرل ہسٹری، انٹرنیشنل ریلیشن، فارمیسی پریکٹس، شیخ زید اسلامک ریسرچ سینٹر، پاکستان اسٹڈی سینٹر اور میرین ریفرنس کلیشن اینڈ ریسورس سینٹر شامل ہے۔

 واضح رہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلوں کا آغاز ہوچکا ہے، داخلہ فارم 7 جولائی تک پورٹل پر جمع ہوں گے اور داخلہ ٹیسٹ 27 جولائی کو ہوگا، ایم فل کے ٹیسٹ کا پاسنگ اسکور 50 فیصد جبکہ پی ایچ ڈی کا 60 فیصد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور پی ایچ ڈی ایم فل

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی