ایران کا اسرائیل پر 21واں حملہ، پہلی بار ملٹی وارہیڈ قدر-ایچ میزائل کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر تازہ ترین میزائل حملے میں پہلی بار ملٹی وارہیڈ قدر-ایچ بیلسٹک میزائل استعمال کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ حملہ “آپریشن وعدہ صادق 3” کا حصہ تھا، جو ایران کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق یہ اسرائیل پر 21واں حملہ تھا، جس میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس سالڈ اور لیکوئیڈ فیولڈ بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس حملے میں ملٹی وارہیڈ قدر-ایچ میزائل کا پہلی بار استعمال کیا گیا، جو ایک سے زائد اہداف کو بیک وقت نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان میزائل حملوں میں شمال سے جنوب تک مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مختلف اہم مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ حملے کی درستگی اور اثر کو بڑھانے کے لیے جدید حکمت عملیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ یہیں نہیں رکے گا اور مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو خطرے کے سائرن مستقل سنائی دیتے رہیں گے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں جارحیت بند نہیں ہوتی، یہ جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور خطے کی صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال کیا اسرائیل پر کیا گیا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔