اسرائیلی فوج نے ایران کے مغربی، مشرقی اور وسطی علاقوں میں واقع کم از کم 6 ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی فوج صوبہ لورستان میں جدید اسرائیلی ڈرون مار گرایا۔

الجزیرہ کے مطابق ایکس پر جاری کردہ بیان میں اسرائیل نے کہا کہ ان حملوں میں ریموٹ کنٹرول طیاروں کے ذریعے ایران کے 15 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان حملوں میں رن ویز، زیرِ زمین بنکرز، ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ اور ایرانی حکومت کے زیرِ استعمال ایف-14، ایف-5 اور اے ایچ ون طیاروں کو نقصان پہنچا ہے‘۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ’فضائیہ نے ان ہوائی اڈوں سے پرواز کی صلاحیت اور ایرانی فوج کی فضائی طاقت کے آپریشن کو متاثر کیا ہے‘۔

دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے آج صبح ایرانی فوج کی جانب سے مار گرائے جانے والے اسرائیل کے جدید ہرمس 900 ڈرون کی فوٹیج نشر کی ہے۔

#BREAKING
An advanced Israeli Hermes drone was shot down early this morning by the IRGC's air defense forces in Khorramabad, Lorestan Province.

pic.twitter.com/5s0QDqcn9n

— Tehran Times (@TehranTimes79) June 23, 2025


لورستان نیوز نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ ڈرون پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے صوبہ لورستان کے شہر خرم‌آباد میں ایک کارروائی کے دوران مار گرایا۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم