Express News:
2026-06-03@04:17:05 GMT

پس ثابت ہوا جھوٹ کے بھی پاؤں ہوتے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

ایران کے معاملے پر انقرہ میں اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی وزراِ خارجہ اجلاس نے وہی کیا جس کے لیے وہ چھپن برس سے مشہور ہے۔یعنی ایران کے خلاف جارحیت رکوانے کے لیے ایک رابطہ گروپ کا قیام جو بین الاقوامی برادری سے رابطہ کر کے کوئی حل نکالے۔کانفرنس نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر بھی ’’شدید تشویش‘‘ ظاہر کرتے ہوئے ’’ خبردار ‘‘ کیا کہ اس مہم جوئی سے علاقے میں تناؤ اور بڑھے گا۔

میں کئی برس سے سوچ رہا ہوں کہ اگر اردو میں ’’شدید تشویش‘‘ کی اصطلاح نہ ہوتی تو مسلمان دنیا کس اصطلاح کو بطور تکیہ استعمال کرتی؟

وہ یورپی ممالک جنھوں نے یوکرین کے ایک جوہری بجلی گھر پر روسی میزائل حملہ ہوتے ہی آسمان سر پے اٹھا کر روس کو ایک خطرناک کھیل شروع کرنے کا مجرم ٹھہرایا۔وہی یورپ ایرانی جوہری تنصیبات کو مسلسل اور مشترکہ نشانہ بنانے پر نہ صرف مطمئن بلکہ ایران سے مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یقین دلائے کہ کبھی ایٹم بم نہیں بنائے گا۔حالانکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) اور امریکی انٹیلی جینس اداروں کی نگراں تلسی گیبارڈ کی گواہی کے بعد ایران کو یہ حلف دینے کی ضرورت نہیں کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا نہ پہلے ارادہ تھا نہ اب ہے۔

ایران اور امریکا اومان میں اس دن ( چودہ جون) اسی مسئلے پر چھٹی بار مذاکرات کرنے والے تھے جس سے ایک دن پہلے اسرائیل کے لگ بھگ دو سو طیاروں نے ہلہ بولا۔جب کہ جنیوا میں یورپی وزراِ خارجہ سے ایرانی وزیرِ خارجہ کی پہلی ملاقات کے ایک روز بعد (بائیس جون ) ہی امریکا نے ایران پر حملہ کر کے بقول ٹرمپ ایرانی ایٹمی پروگرام کو ’’ تہس نہس ‘‘ کر دیا۔

جو یورپی ممالک (برطانیہ ، فرانس ، جرمنی) ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کا کہہ رہے ہیں۔انھی ممالک میں سے ایک جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے منہ سے نکل گیا کہ اسرائیل دراصل ہمارا ’’ ڈرٹی ورک ‘‘ کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کسی بھی ممکنہ امریکی کاروائی دو ہفتے تک نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔تاکہ یورپی سفارت کار ایران کے ساتھ بیٹھ کے کوئی حل نکال سکیں۔ جب امریکا نے اپنی ہی ڈیڈ لائن توڑتے ہوئے چلتی بات چیت کے دوسرے ہی روز حملہ کر دیا تو ایران کو گفتگو میں مصروف کرنے والے جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ٹرمپ سے اپنی سفارتی توہین پر باقاعدہ احتجاج کرنے کے بجائے امریکی کارروائی کا پرجوش خیرمقدم کیا۔

 اگر اسرائیل اور امریکا نے مل کے ایرانی جوہری پروگرام ’’ تہس نہس ‘‘ کر ہی دیا ہے تو اس کے بعد بھی حملے کیوں نہیں رکے ؟ یورپ اب بھی ایران سے بات چیت کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے۔بقول ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ’’ اب اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات واقعی تباہ ہو گئی ہیں تو اس کے بعد یورپ اور امریکا ایران سے آخر کس مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں ‘‘ ؟ کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے ؟

حالانکہ ایران کا کوئی میزائل یورپ اور امریکا تک مار نہیں کر سکتا۔مگر یورپ اس لیے خوش ہے کیونکہ رائے عامہ کے بوجھ سے مجبور ہو کر برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کی اسٹیبلشمنٹ نے فلسطینیوں کے بارے میں جو ہمدردانہ زبانی جمع خرچ شروع کر دیا تھا اور نسل کشی بند کرنے کے لیے ممکنہ اقتصادی پابندیاں حرکت میں لانے کی اسرائیل کو جو نیم دلانہ دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اب ایران کی صورت میں نیا ولن مل جانے کے بعد یورپ کو ’’ ضمیر ‘‘ کے بوجھ سے نجات مل گئی ہے اور وہ پہلے کی طرح آنکھ بند کر کے اسرائیل کی حمائیت کر سکتا ہے۔کہاں دو ہفتے پہلے تک فرانس اسرائیل کو فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور کہاں اب صدر میخواں ایرانی خطرے کے سدِباب کے لیے اسرائیل کے ’’ پیشگی حقِ دفاع ‘‘ کے وکیل بن چکے ہیں۔

اسرائیل کو فوری فائدہ تو یہ ہوا کہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ایران سے جنگ پر مرکوز ہو گئی اور غزہ فی الحال پس منظر میں چلا گیا۔وہاں اسرائیل امداد کے متلاشی بھوکے فلسطینیوں کو روزانہ سو دو سو کے حساب سے اطمینان سے ختم کر رہا ہے۔

طویل المعیاد فائدہ یہ ہوا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خاتمے ، شام میں حکومت کی تبدیلی اور عراق کے معلق ہونے کے نتیجے میں لبنان تا ایران جو اسرائیل دشمن ہلال (کریسنٹ) قائم تھی اس کے ٹکڑے ہو گئے۔اب اگر اسرائیلی خواہش کے مطابق ایرانی حکومت بھی معزول ہوجاتی ہے تو خطے میں اسرائیل کو زک پہنچانے والا ایک بھی قابلِ ذکر ملک باقی نہیں بچے گا۔

یوں اسرائیلی اثر و نفوذ زاہدان کی سرحد تک آ جائے گا۔اگلی منزل پاکستان ہے جو اسرائیل سے خوفزدہ مشرقِ وسطی اور بھارت کے درمیان سینڈوچ کے کباب میں آخری ہڈی ہے۔

گزشتہ ماہ جب صدر ٹرمپ نے تین خلیجی ممالک ( سعودی عرب ، امارات ، قطر ) کا دورہ کیا اور لگ بھگ ساڑھے چار ٹریلین ڈالر کے تجارتی اور اسلحہ سجھوتے اور ایک بوئنگ جہاز کا تحفہ وصول کیا۔تب انھوں نے اپنے میزبانوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران اور امریکا کے مابین بات چیت اچھے سے آگے بڑھ رہی ہے اور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔

صدر ٹرمپ نے بس یہ بات میزبانوں کو نہیں بتائی کہ امریکا نے جو شرائط ایران کے سامنے رکھی ہیں انھیں یقین ہے کہ وہ کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔

 ( ایران پر امریکی حملے کے چند گھنٹے بعد امریکا کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ڈان کین نے پنٹاگون میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران پر حملے کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی۔’’ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر ‘‘ میں بی ٹو بمبار طیاروں سمیت ایک سو پچیس لڑاکا اور امدادی طیاروں نے حصہ لیا اور تین جوہری ٹھکانوں پر تیس تیس ہزار پاؤنڈ وزن کے چودہ بنکر توڑ بم گرائے گئے )۔

صدر ٹرمپ کے خلیجی ممالک میں قیام کے دوران اس حسنِ اتفاق پر بھی بہت سے علاقائی تبصرے بازوں نے بغلیں بجائیں کہ ٹرمپ نے اس دورے میں اسرائیل کو نظرانداز کیا ہے۔ورنہ ہر امریکی صدر مشرقِ وسطی کے دورے میں تل ابیب میں ضرور رکتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو سے بیزار ہے۔

تیرہ جون کو اسرائیل کی ایران پر یلغار اور بائیس جون کو براہِ راست امریکی حملے کے بعد جس طرح ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایک دوسرے کی فراست کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس کے بعد آپ کو ’’ دو طرفہ بیزاری ‘‘ کے امریکی معنی شاید سمجھ میں آ ر ہے ہوں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کو اور امریکا امریکا نے کر رہا ہے کہ ایران ایران پر ایران سے ایران کے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان