آپریشن بنیان مرصوص ایک تاریخی فتح سے ہمکنار ہوا، کور کمانڈر لاہور
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
لیفٹینٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے یو ایم ٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور ہنر سے آراستہ نوجوان ہی ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں اور اساتذہ کرام قوم کے معمار ہیں، جنہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے زور دیا کہ ہم سب نے مل کر وطن عزیز کو محفوظ اور مضبوط تر بنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اساتذہ اور طلباء کیساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں جنرل فیاض حسین شاہ نے معرکۂ حق کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور عالمی و علاقائی تناظر میں حالیہ پاک، بھارت جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کو پوری قوم کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک تاریخی فتح کا نام دیا۔
کورکمانڈر نے حاضرین کے سوالات کے مدلل اور مفصل جوابات دیئے اور نوجوانوں کے کردار کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ہنر سے آراستہ نوجوان ہی ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں اور اساتذہ کرام قوم کے معمار ہیں، جنہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے زور دیا کہ ہم سب نے مل کر وطن عزیز کو محفوظ اور مضبوط تر بنانا ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص نے دنیا پر پاکستانی قوم اور افواج کی طاقت کو نمایاں کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنرل فیاض حسین شاہ نے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔