ابو ظبی میں پاکستان-متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کا 12واں اجلاس، اہم معاہدوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ابوظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون 2025ء)پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کا بارہواں اجلاس 24 جون 2025 کو ابو ظبی میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے کی۔ اجلاس سے قبل، خصوصی معاون وزیر اعظم پاکستان طارق باجوہ اور اماراتی وزیر مملکت احمد علی السیغ کی زیر قیادت ورکنگ گروپ کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔
اجلاس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات پر اتفاق ہوا، جن میں شامل ہیں: تجارت، بینکاری، ثقافت، سرمایہ کاری، ہوا بازی، ریلوے، توانائی، خوراک کا تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی، دفاع، صحت، افرادی قوت، اعلیٰ تعلیم اور آئی ٹی۔(جاری ہے)
یہ اجلاس بھائی چارے اور باہمی اعتماد کے ماحول میں منعقد ہوا، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک نے خطے میں امن اور استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے بعد ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جس میں مستقبل کی کارروائیوں، شعبہ جاتی ورکنگ گروپس کے ذریعے روابط اور باہمی دوروں کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ مزید اہم معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے: داخلے کے ویزا کی باہمی چھوٹ کا مفاہمتی یادداشت (MoU) ۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کا قیام ۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت پر معاہدہ ۔ دونوں فریقین نے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور اتفاق کیا کہ 13واں اجلاس پاکستان میں باہمی رضامندی سے طے شدہ تاریخ پر منعقد کیا جائے گا۔ یہ اجلاس پاکستان اور امارات کے درمیان گہرے، اسٹریٹجک اور ترقی پسند تعلقات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔