ایران اسرائیل جنگ بندی میں پاکستان کا بھی کردار ہے، امریکی صدر، فیلڈ مارشل کی ملاقات میں پیشرفت ھوئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران، اسرائیل جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان بھی مسلسل شریک رہا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں بھی اس حوالے سے پیشرفت ہوئی۔
سماجی رابطے کی ویب ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘ایران اسرائیل جنگ بندی — ایک تجزیہ ، یہ جنگ بندی ایران اور اسرائیل ہی نہیں بلکہ امریکا سمیت تینوں کے بیچ ہوئی، روس اور قطر کا کردار اہم ترین ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب و دیگر ممالک بھی ان کوششوں میں مسلسل شریک رہے، کوئی مانے یا نہ مانے، امریکی صدر اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں بھی اس جنگ بندی کے حوالہ سے بات چیت اور پیش رفت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ اور مشرق وسطٰی میں امریکی نمائیدے بھی موجود تھے، بھاری جانی مالی اور دفاعی نقصانات کے باوجود ایران نے جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
سعد رفیق نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل، ایران کو سرنڈر کروانے،جھکانے ، اندرونی بغاوت کروانے اور ایٹمی پروگرام پر آگے بڑھنےسے روکنے میں مکمل ناکام رہے، اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم ٹوٹ گیا۔
ایران اسرائیل امریکہ جنگ بندی — ایک تجزیہ
یہ جنگ بندی ایران اور اسرائیل ھی نہیں بلکہ امریکہ سمیت تینوں کے بیچ ھوئ ھے، روس اور قطر کا کردار اھم ترین ھے ، پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب و دیگر ممالک بھی ان کوششوں میں مسلسل شریک رھے ھیں -
کوئ مانے یا مانے ! امریکی صدر اور…
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ملاقات میں
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔