جم جائے بغیر وزن کیسے کم کیا؟، بلاول بھٹو نے سارا پلان بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ چند عرصے میں اپنے وزن میں نمایاں کمی کرکے سوشل میڈیا صارفین کو حیرانی میں مبتلا کردیا تھا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ وہ اوزیمپک استعمال کر رہے ہیں، (یہ وہ دوا ہے جو عموماً ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے اور وزن کم کرنے میں بھی معاون سمجھی جاتی ہے)۔
اب حال ہی میں صحافی رؤف کلاسرا نے بلاول بھٹو سے ان کے وزن میں کمی کے حوالے سے سوال کیا کہ لوگ اس حوالے سے جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے اپنا وزن کیسے کم کیا اور اس کے بارے میں کوئی ٹپس بھی دیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ورزش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن میرے خاندان میں شوگر کا مسئلہ ہے جس کے بعد میں نے چیزوں کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا۔
ڈائٹ پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں کاربوہائڈریٹ اور چینی نہیں لیتا اور پروٹین زیادہ لیتا ہوں۔ سبزی اور دالوں کے ساتھ باجرے کی روٹی کھاتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دو سال سے میں سختی سے اس پر عمل کر رہا ہوں۔ بلاول نے کہا کہ پہلے میری ان چیزوں میں بالکل دلچسپی نہیں تھی کہ کیا کھانا کھا رہا ہوں اور جم کیا ہوتا ہے۔
There was a huge storm on social media recently as how @BBhuttoZardari dramatically transformed his personality and lost considerable weight.
Now in his first podcast with me, BBZ finally shares all secrets of interesting tricks he applied to take a new&pleasant shape.
Complete… pic.twitter.com/Or5TSyf1ZA
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) June 25, 2025
صحافی نے ان سے مزید سوال کیا کہ آپ کے بارے میں میمز بھی بنائی جاتی ہیں تو کیا آپ انہیں انجوائے کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں میمز نہیں دیکھتا ہاں کبھی کبھار کوئی چیز وائرل ہو جائے تو دوست احباب شیئر کر دیتے ہیں پھر دیکھ لیتا ہوں۔
واضح رہے اس سے قبل بھی بلاول بھٹو کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ان سے وزن میں کمی کرنے کا طریقہ پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’چینی اور روٹی کھانا بند کریں، ورزش کرنا اور جم جانا شروع کریں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوزیمپک بلاول بھٹو بلاول بھٹو وزن ڈائٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوزیمپک بلاول بھٹو بلاول بھٹو وزن ڈائٹ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر