ملازمین پر تشدد آمریت کی بدترین مثال ہے، بلوچستان بار کونسل
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اپنے بیان میں بلوچستان بار کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ ملازمین پر تشدد اور خواتین ملازمین کو زخمی کرنا اور گرفتاریاں بدترین آمریت ہے۔ حکومت ملازمین کے مسائل کو گفت و شنید سے حل کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی امان اللہ کاکڑ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کوئٹہ پولیس کی جانب سے ملازمین گرینڈ الائنس کی پرامن ریلی اور احتجاج پر آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کرکے متعدد ملازمین کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ملازمین کے مسائل کو گفت و شنید سے حل کرے۔ ملازمین پر تشدد اور خواتین ملازمین کو زخمی کرنے اور گرفتاریاں بدترین آمریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کا اپنے مطالبات کے حق میں پرامن ریلی کو پولیس نے بزور طاقت کچلنے کی کوشش کی۔ بیان میں کہا گیا موجودہ صوبائی حکومت عوام، ملازمین کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بیڈ گورننس، کرپشن، اقرباء پروری کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو جمہوری جدوجہد سے دور کرنے کیلئے ایک سازش کی جا رہی ہے، تاکہ بلوچستان کے عوام جمہوری جدوجہد سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت کی ایک زندہ مثال ہے۔ جنہوں نے ہر جمہوری پرامن جدوجہد کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت فوری طور پر تمام گرفتار ملازمین کو رہا اور ملازمین کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملازمین کے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔