سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2025ء) سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آ گیا، مملکت میں نئے ہجری سال کا آغاز 26 جون بروز جمعرات سے ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں بدھ کی شام کو ہجری سال 1446 ہجری کا اختتام ہو گیا۔ بدھ کی شام کو سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آ گیا، یوں کل بروز جمعرات کو سعودی عرب میں ہجری سال 1447 کا آغاز ہو جائے گا۔
دیگر خلیجی ممالک میں بھی کل یکم محرم الحرام ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ماہرین فلکیات نے پاکستان میں کل چاند نظر آنے کا قوی امکان ظاہر کر دیا۔ محرم الحرام کے چاند کی پیدائش ہو جانے کے بعد نئی ہجری سال کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم محرم الحرام کے چاند کی رویت کا باضابطہ اعلان پاکستان سمیت دنیا بھر میں رویت ہلال کمیٹیاں کریں گی۔(جاری ہے)
رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق محرم الحرام کے چاند کی پیدائش 25جون بروز بدھ کو دوپہر کے وقت ہوگئی، چاند کی عمر 27گھنٹے سے زائد ہونے کے باعث 26 جون کو ملک بھر میں چاند دیکھنا آسان ہوگا، نئے سال کا آغاز 27جون اور یوم عاشور 6 جولائی کو ہونے کا امکان ہے۔
نئے ہجری سال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 26 جون کو چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد کی زیر صدارت کوئٹہ میں ہوگا ۔لاہور سمیت دیگر شہروں میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کا اجلاس ہوگا۔ رویت ہلال ریسرچ کونسل کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق نئے ہجری سال کا چاند 25جون 2025 کو پاکستانی وقت کے مطابق بعد سہ پہر 3بج کر 32منٹ پر پیدا ہو گیا۔ 26 جون کو یعنی 29ذوالحجہ کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر27 گھنٹے سے بھی زائد ہو چکی ہو گی۔ 26 جون کو غروب شمس اور غروب قمر کے درمیان فرق جو کم از کم 40منٹ ہونا چاہیے وہ کراچی میں 74منٹ ، جیوانی میں 75منٹ ، کوئٹہ اور لاہور میں 76منٹ ہوگا۔ یوں موسم صاف ہونے کی صورت میں 26 جون کو پاکستان بھر میں محرم الحرام کا چاند نظر آ جانے کا قوی امکان ہے۔ رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق چاند نظر آ جانے کی صورت میں پاکستان میں یکم محرم الحرام یعنی نئے ہجری سال کا آغاز جمعتہ المبارک 27 جون ہو گا۔ 26 جون کو محرم الحرام کا چاند نظر آ جانے کی صورت میں یومِ عاشور یعنی دس محرم الحرام اتوار 6 جولائی کو ہو گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں محرم الحرام کا چاند نظر آ نئے ہجری سال کا سال کا آغاز رویت ہلال کے مطابق چاند کی جون کو
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔