عین ممکن ہے ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
نجی ٹی وی سے گفتگو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں لنچ پاکستان کی تاریخ بے مثال واقعہ ہے، فیلڈ مارشل کا امریکا کا دورہ پہلے سے طے تھا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل نے پاک بھارت جنگ کو خود لیڈ کیا، ہاری ہوئی جنگ کے سربراہ کو کوئی دعوت نہیں دیتا، ایسے کھانے جیتی ہوئی جنگ کے سربراہ کو ملتے ہیں، وائٹ ہاؤس میں لنچ پاکستان کی تاریخ بے مثال واقعہ ہے، فیلڈ مارشل کا امریکا کا دورہ پہلے سے طے تھا، عین ممکن ہے کہ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں، چاہتا ہوں میرے وزیراعظم بننے سے پہلے پاکستان اور بھارت درمیان امن قائم ہوجائے۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں پورا ملک ایک ہوگیا تھا، باہر بھی یہ تاثر تھا کہ پاکستان میں تقسیم پیدا ہوگئی لیکن پاک بھارت جنگ میں ایک اتحاد قائم ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے ڈیجیٹل محاذ سنبھالا، 5 دن کی جنگ کے بعد پاکستان کا کیس مضبوط کرنے کا ٹاسک ملا، پاکستان سچ اور بھارت جھوٹ کے ساتھ کھڑا تھا، بھارت نے جہاز گرنے کی خبریں بھی چھپائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اپنے خطے میں امن کی بات کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو، بھارت چاہتا تھا پاکستان کا نام ٹیرستان بن جائے، ہم نے اپنا کیس بہترین انداز میں لڑا، ہمارے سفیر پاکستان کا محاذ سنبھال رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک بھارت جنگ کو خود لیڈ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کے 6 جہاز گرائے، سیز فائر جب قبول کرتے ہیں جب ملٹری کا ہاتھ اوپر ہو، ہم سب ان کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، ہاری ہوئی جنگ کے سربراہ کو کوئی دعوت نہیں دیتا، ایسے کھانے جیتی ہوئی جنگ کے سربراہ کو ملتے ہیں، وائٹ ہاؤس میں لنچ پاکستان کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے، فیلڈ مارشل کا امریکا کا دورہ پہلے سے طے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامرس سیکرٹری اور وزیرخارجہ بھی امریکا جائیں گے، عین ممکن ہے کہ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے ملاقات بہت بڑی کامیابی ہے، آج رات وزیراعظم سے وفد کے ہمراہ ملاقات کروں گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سمجھا گیا کہ مودی واجپائی جیسا ہوگا، مودی سے خیر کی امید نہ رکھیں، اس نے اپنا چہرہ دکھا دیا، پاکستان نے اپنے سے بڑی طاقت کو شکست دی، میزائل کا جواب دیا تو بھارت سیز فائر کے لیے مجبور ہوا، دہشت گردی پاکستان اور بھارت دونوں کا مسئلہ ہے، ہمیں نسل در نسل پانی پر نہیں لڑنا چاہیئے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بڑی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چاہتا ہوں میرے وزیراعظم بننے سے پہلے امن ہوجائے، پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں امن ہوجائے، مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت میں امن نہیں آسکتا، اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو میں پاکستان سے مطالبہ کروں گا کہ بھارت سے جنگ لڑے، بھارت سے جنگ لڑنا پاکستان کے لیے قانونی ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوئی جنگ کے سربراہ کو بلاول بھٹو زرداری پاک بھارت جنگ پیپلز پارٹی فیلڈ مارشل پاکستان کا اور بھارت نے کہا کہ کا دورہ
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز