Daily Ausaf:
2026-06-03@02:28:26 GMT

تہذیبوں کا تصادم اور پاکستان کی آزمائش

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

تاریخ کے اوراق میں کبھی کبھی ایسے لمحے نمودار ہوتے ہیں جوسطحی نگاہوں سے محض ملاقاتیں دکھائی دیتے ہیں،مگر بصیرت کی نگاہ میں وہ تاریخ کے دھارے بدلنے والے لمحے بن جاتے ہیں۔ دنیا ایک نئے عبوری دورسے گزررہی ہے۔روس و یوکرین کی جنگ کے شعلے ابھی ختم نہیں ہوئے کہ مشرقِ وسطی کابگڑتامنظرنامہ،ایک نیاسوالیہ نشان لیے سامنے آ گیا ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کاپراناتصوراب محض تھیوری نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ایران اوراسرائیل کے مابین بڑھتی کشیدگی نے ایک ایسادھواں اٹھادیاہے جس کی لپٹیں خلیج فارس سے ہوتی ہوئی،واشنگٹن،تل ابیب، تہران،بیجنگ، ماسکو اورنئی دہلی تک پہنچ چکی ہیں۔ایران کاحیفہ اورتل ابیب پرحملہ،اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطی کے جنگی افق پر اب صرف عسکری حملے نہیں بلکہ علامتی تہذیبی واربھی شامل ہوچکے ہیں۔
بین الاقوامی تناظرمیں تہذیبی تصادم اور صف بندی کی نئی بساط بچھاکردنیاکانقشہ تبدیل کرنے کی سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ کلیدی عالمی مظاہرمیں امریکااسرائیل کابے مثال حلیف کا کرداراداکرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اور اخلاقیات کوپاؤں تلے مسل رہا ہے جبکہ ایران اپنے دفاعی نظریے کواسلامی مزاحمت کالباس پہنا چکا ہے۔ روس،امریکاکی عسکری مداخلت کامخالف اور چین خاموشی سے اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے۔ یورپی ممالک چاہنے کے باوجوداس بحران میں کھل کرکرداراداکرنے سے قاصرہیں۔
عرب ریاستیں تذبذب میں ہیں۔سعودی عرب مصالحت پرمائل،امارات محتاط اور قطر دودھاری پالیسی پرکھڑاایک بڑی آزمائش میں مبتلا ہے کہ اس نے اربوں ڈالراپنی گرہ سے لگاکر ہزاروں میل دوربسنے والے قصرسفید کے مکین کو اپنی سریع الحرکت افواج کو علاقہ کاسب سے بڑا بحری اڈہ بناکرپیش کردیااوراب اگراس اڈے کونشانہ بنایاجاتاہے توقطرکی برسوں کی محنت کے بعدجاری خوشحالی خاکسترہوسکتی ہے۔اس سارے تناظر میں اگرکسی ملک کی ایک ’’خاموش موجودگی‘‘ عالمی حلقوں میں توجہ حاصل کر رہی ہے تووہ پاکستان ہے۔
دنیاکے افق پرجب افلاک سیاست کے ستارے گردش میں آتے ہیں،اورتہذیبوں کے مابین کشیدگی کی بجلیاں کڑکنے لگتی ہیں،تب ایک خاموش ملاقات بھی گونج دارپیغام بن جاتی ہے۔ واشنگٹن کی سنگین فضامیں جب جنرل عاصم منیر، پاکستان کی عسکری قیادت کاپیکرِوقار،وائٹ ہاس کی دہلیزپرقدم رکھتاہے،تویہ محض ایک رسمی مصافحہ نہیں ہوتابلکہ تہذیبوں کے مابین ایک خاموش مکالمہ آغازپاتاہے۔پاکستان کا کردار نہایت پیچیدہ اورحساس نوعیت کاہے۔بطورایک ایٹمی اسلامی ریاست،اس کی پوزیشن دنیابھرمیں منفرد ہے۔جنرل عاصم منیرکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیرمعمولی ملاقات اسی حساسیت کا مظہر ہے۔
یہ ملاقات محض ایران واسرائیل کے تنائو کے تناظرمیں نہیں دیکھی جاسکتی،کیونکہ درحقیقت یہ مکالمہ اس بڑے منظرنامے کا ایک جزہے جس میں طاقت کی بساط پرنئی چالیں چلی جارہی ہیں۔یہ اس وقت ہواجب مشرقِ وسطی میں آتش وآہن کے بادل چھائے ہوئے ہیں،حیفہ کی بندرگاہیں جل رہی ہیں،تل ابیب دھواں دھواں ہے،اورتہران کے ایوانوں میں صدائے احتجاج گونج رہی ہے۔
حالیہ دنوں واشنگٹن میں وائٹ ہاس کے درودیوارایک ایسی ہی ملاقات کے گواہ بنے جب جنرل عاصم منیراورامریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے مابین ایک غیرمعمولیاورشیڈول سے طویل ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کومحض رسمی مصافحہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے تہذیبی مکالمے،عسکری توازن، سفارتی چالاکی اورمستقبل کی عالمی سیاست کی تمہید کے طورپردیکھاجاناچاہیے۔
اس ملاقات کی گونج صرف پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی فضاتک محدودنہیں،بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی دھڑکتی ہوئی نبض، ایران اور اسرائیل کے درمیان سلگتاہواتنازع،اورمسلم دنیا کے مجموعی موقف سے مربوط ہے۔ٹرمپ اورجنرل منیر کی ملاقات میں مشرق وسطی کے حالاتِ حاضرہ، بالخصوص ایران واسرائیل کشیدگی،پرتفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ ملاقات محض پروٹوکول کا حصہ نہیں رہی بلکہ اسے واشنگٹن میں اسٹریٹیجک کامیابی کے طور پردیکھاجارہاہے۔ٹرمپ نے جنرل منیرکا ’’شکریہ‘‘ اداکیاکہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ممکنہ جنگ کوروکنے میں کرداراداکیا۔
امریکی تجزیہ نگاربارباراس ملاقات کو ’’شراکت داری میں نئی پیش رفت‘‘قراردے رہے ہیں۔اس کے پیشِ نظرپاکستانی فوج نے خطے میں اپنی عسکری ساکھ برقراررکھی جبکہ سفارتی سطح پربھی امریکاکے ساتھ تعلقات مستحکم ہوئے،خاص کراس وقت جب پاکستان توازن برقراررکھتے ہوئے چین کے ساتھ بھی جدید دفاعی لین دین کررہاہے۔
صدرٹرمپ نے ملاقات کے بعدجوجملے ادا کیے، وہ محض رسمی سفارتی جملے نہیں،بلکہ اس بات کا عندیہ تھے کہ ایران کے حوالے سے ان کی معلومات اورتعلقات گہرے ہیں:’’ وہ ( جنرل عاصم منیر) ایران کوبہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ شایددوسروں سے بہتر‘‘۔یہ جملہ فقط ایک شخصیت کی معلومات کااظہارنہیں،بلکہ امریکاکی داخلی پالیسی اوراسرائیل کی پشت پرموجودامریکی ذہنیت کی سفارتی علامت کی بھی ایک جھلک ہے۔ گویاایران کے ساتھ ان کی دانستہ خاموش وابستگی اب بے نقاب ہورہی ہے۔ ایسے بیانات سفارتی چالوں میں کئی بار’’مذاکرات کے دروازے‘‘ کھلے رکھنے کاحربہ ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ، بظاہر سیاسی لطافت میں لپٹے ہوئے،درحقیقت ایک غیرمعمولی فہم کی غمازی کرتے ہیں۔ وہ ایران کو ’’شایددوسروں سے بہتر‘‘جانتے ہیں، ایک ایسا اعتراف جوبسااوقات بادلوں کے پیچھے چھپے سورج کی ماننداپنی روشنی نہیں دکھاتامگرگرمی ضرور دیتا ہے۔ان کے یہ الفاظ کہ’’ہم اس صورتحال سے خوش نہیں‘‘،سفارتی ادب کاوہ قرینہ ہے جس میں بیزاری کی تلخی خوش گفتاری کی شکرمیں لپیٹ دی جاتی ہے۔پاکستان،جوازل سے ہی تلوارکی دھار اورپل صراط پرچلنے کاعادی رہاہے،ایک بارپھراس تاریخ کے موڑپرکھڑاہے جہاں اسے اپنی پالیسی کاکمال دکھاناہوگانہ بے نیازی کادعوی،نہ بے نیازی کی ہزیمت،بلکہ حکمت کی روشنی اورخودداری کی رہنمائی۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے مابین کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟