data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کی دنیا میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت میں مالی خودمختاری کا نیا باب ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کی بھی واضح علامت بنتا جا رہا ہے۔

یہ اقدام پاکستان کے لیے ڈیجیٹل دنیا میں محض ایک صارف کے بجائے ایک فعال شراکت دار بننے کی طرف پیش رفت ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین ٹیکنالوجی بلال بن ثاقب کی سربراہی میں حکومت نے نہایت حکمت اور مہارت سے ایک ایسے فریم ورک کی بنیاد رکھی ہے جس کے ذریعے پاکستان نہ صرف دنیا بھر کے کرپٹو صارفین کی صف میں اپنی جگہ بنا رہا ہے بلکہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق اسٹریٹیجک بٹ کوائن ریزرو کی تشکیل پاکستان کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کو قومی مالیاتی پالیسی کے اہم حصے کے طور پر متعارف کروانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا بلکہ ملک کی معیشت کو روایتی قرضوں کے جال سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔

اس حوالے سے حکومت نے ڈیجیٹل ایسیٹس اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جو پاکستان میں بلاک چین، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق تمام معاملات کو منظم کرنے والی خودمختار باڈی ہوگی۔ اس اتھارٹی کے تحت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں۔

ترسیلات زر کا نظام جو برسوں سے مہنگا، سست اور پیچیدہ رہا ہے، اب اسٹیبل کوائنز کے ذریعے آسان اور سستا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جو امریکی ڈالر یا دیگر روایتی کرنسیوں سے منسلک ہوتی ہے اور اس کی مدد سے اوورسیز پاکستانی کم وقت اور کم اخراجات میں اپنی رقوم ملک بھجوا سکیں گے۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 لاکھ سے زائد افراد کرپٹو سے براہ راست یا بالواسطہ جُڑے ہوئے ہیں۔ نوجوان طبقہ بالخصوص بلاک چین اور ویب 3.

0 جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ حکومت نے اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت اور بلاک چین پر مبنی تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا ہے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کیا جا سکے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کئی بین الاقوامی بلاک چین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انفرااسٹرکچر، تکنیکی مہارت اور صارفین کی بڑی تعداد اسے بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک قدرتی مرکز بنا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت اپنے حالیہ اقدامات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے اور شفافیت و پائیدار پالیسیوں کو اپنائے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان کرپٹو اور ڈیجیٹل معیشت میں نہ صرف خطے کی قیادت کر سکتا ہے بلکہ عالمی منظرنامے میں ایک مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے۔

پاکستان کی یہ پیش رفت محض ایک اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو ملک کو ٹیکنالوجی، خودمختاری اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب روایتی طاقتوں کے ماڈل سے نکل کر سافٹ پاور سے اسمارٹ پاور کے ماڈل کی طرف کامیابی سے بڑھ رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل معیشت پاکستان میں دنیا میں بلاک چین رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان