ڈیجیٹل معیشت میں انقلاب، پاکستان کا کرپٹو دنیا میں مقام مستحکم ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کی دنیا میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت میں مالی خودمختاری کا نیا باب ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کی بھی واضح علامت بنتا جا رہا ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے لیے ڈیجیٹل دنیا میں محض ایک صارف کے بجائے ایک فعال شراکت دار بننے کی طرف پیش رفت ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین ٹیکنالوجی بلال بن ثاقب کی سربراہی میں حکومت نے نہایت حکمت اور مہارت سے ایک ایسے فریم ورک کی بنیاد رکھی ہے جس کے ذریعے پاکستان نہ صرف دنیا بھر کے کرپٹو صارفین کی صف میں اپنی جگہ بنا رہا ہے بلکہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق اسٹریٹیجک بٹ کوائن ریزرو کی تشکیل پاکستان کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کو قومی مالیاتی پالیسی کے اہم حصے کے طور پر متعارف کروانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا بلکہ ملک کی معیشت کو روایتی قرضوں کے جال سے نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔
اس حوالے سے حکومت نے ڈیجیٹل ایسیٹس اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جو پاکستان میں بلاک چین، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق تمام معاملات کو منظم کرنے والی خودمختار باڈی ہوگی۔ اس اتھارٹی کے تحت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں۔
ترسیلات زر کا نظام جو برسوں سے مہنگا، سست اور پیچیدہ رہا ہے، اب اسٹیبل کوائنز کے ذریعے آسان اور سستا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جو امریکی ڈالر یا دیگر روایتی کرنسیوں سے منسلک ہوتی ہے اور اس کی مدد سے اوورسیز پاکستانی کم وقت اور کم اخراجات میں اپنی رقوم ملک بھجوا سکیں گے۔
پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 لاکھ سے زائد افراد کرپٹو سے براہ راست یا بالواسطہ جُڑے ہوئے ہیں۔ نوجوان طبقہ بالخصوص بلاک چین اور ویب 3.
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کئی بین الاقوامی بلاک چین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انفرااسٹرکچر، تکنیکی مہارت اور صارفین کی بڑی تعداد اسے بلاک چین اور کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک قدرتی مرکز بنا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت اپنے حالیہ اقدامات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے اور شفافیت و پائیدار پالیسیوں کو اپنائے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان کرپٹو اور ڈیجیٹل معیشت میں نہ صرف خطے کی قیادت کر سکتا ہے بلکہ عالمی منظرنامے میں ایک مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے۔
پاکستان کی یہ پیش رفت محض ایک اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو ملک کو ٹیکنالوجی، خودمختاری اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب روایتی طاقتوں کے ماڈل سے نکل کر سافٹ پاور سے اسمارٹ پاور کے ماڈل کی طرف کامیابی سے بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل معیشت پاکستان میں دنیا میں بلاک چین رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔