لاہور:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران نے اپنی طاقت منوائی ہے، خطے میں نیا دفاعی بلاک بنانے کی ضرورت ہے۔

منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے ایران کی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کو جراتمندانہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی حکومت و عوام نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اسرائیل و امریکا ایران میں رجیم چینج اور ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنا چاہتے تھے، تاہم ایرانی ردعمل کے بعد امریکا کا رویہ بدل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے پاکستان نے بھارت کو شکست دی، ویسے ہی ایران نے اسرائیل کو پسپا کیا ہے۔ اب تاخیر کے بغیر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔

امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں اپنی طاقت منوا چکے ہیں، اب کسی ملک کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکا کی ناراضی کے ڈر سے پاکستان کو گیس منصوبہ متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان، ایران، ترکیہ، افغانستان، بنگلا دیش اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل ایک نئے دفاعی بلاک کے قیام کی تجویز بھی دی اور کہا کہ موجودہ عالمی حالات اس کا تقاضا کر رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ کے عوام کی جرأت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت ہے کہ جنگ بندی کے لیے عالمی طاقتیں اپنا عملی کردار ادا کریں کیونکہ غزہ کے عوام نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ پر بحث جاری ہے لیکن اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سولر پر عائد تمام ڈیوٹیز مکمل ختم کی جائیں اور بجلی کے ٹیرف میں بھی نمایاں کمی کی جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ایف بی آر کو کرپشن کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کرپشن کا خاتمہ نہ کیا تو معیشت کبھی نہیں سنبھلے گی۔

انہوں نے پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ زراعت کو جتنا نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور عملی طور پر پاکستان کی زراعت ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چچا اور بھتیجی کی باتیں سنیں تو یوں لگتا ہے جیسے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شرح سود فوری کم کی جائے اور سود کو رواں سال 5 فیصد تک جب کہ آئندہ سال مکمل ختم کیا جائے۔ اسی طرح آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والی حکومتی بات چیت کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ چینی کس ریٹ پر ایکسپورٹ کی گئی اور اب کس ریٹ پر امپورٹ ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا