کراچی میں بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع، دو افراد جاں بحق، متعدد علاقے بجلی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ہفتہ کی رات ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی نظام زندگی متاثر ہو گیا۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جب کہ دو مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق، گلشن اقبال، رضویہ، ناظم آباد، لیاقت آباد، شریف آباد، عزیز آباد، دستگیر، حسین آباد، گولیمار، جہانگیر آباد، عثمانیہ سوسائٹی اور دیگر علاقوں میں بارش کے آغاز کے بعد سے بجلی بند ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ رات 11 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جو تاحال بحال نہیں کی جا سکی۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کے-الیکٹرک کی ہیلپ لائن پر کال کرنے کے باوجود کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جا رہا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق، کے-الیکٹرک کا نظام نہ صرف بوسیدہ ہو چکا ہے بلکہ معمولی بارش کے بعد بھی متعدد فیڈرز ٹرپ ہو جاتے ہیں، جب کہ اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی برقرار ہیں۔
دوسری جانب بارش کے دوران دو مختلف افسوسناک واقعات پیش آئے۔ لیاری کے علاقے بکرا پیڑی پل کے نیچے دیوار گرنے سے ایک شخص ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔ چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسرا واقعہ سائٹ ایریا کے لیبر اسکوائر ممتاز مسجد کے قریب پیش آیا جہاں ایک کمپنی میں کرنٹ لگنے سے 22 سالہ نوجوان کامران ولد اصغر جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق نوجوان کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا