ملک کے مختلف علاقوں میں بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا، مزید بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا جبکہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مزید دو دن بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، کشمیر اور شمال مشرقی بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ اور چند مقامات پر تیز اور موسلادھار بارش ہوئی۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر قصور میں 71 ملی میٹر، اوکاڑہ 67، شیخوپورہ 54، جوہرآباد 49، سرگودھا سٹی 45، ملتان ایئرپورٹ 43، بہاولنگر اور ساہیوال 37 اور چکوال میں 36 ملی میٹر ہوئی۔
اسی طرح اسلام آباد میں 35، لاہور ایئرپورٹ 34، حافظ آباد اور خان پور 29، نارووال 25، رحیم یار خان 24، لاہور سٹی 23، فیصل آباد، خانیوال 17، گجرات سے ملتان سٹی 11، منگلا 10، جہلم 9، اٹک اور نور پور تھل 7، منڈی بہاالدین، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ 5، مری 2، گوجرانوالہ1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے علاقوں مالم جبہ میں 69، پاراچنار 23، چراٹ 15، سیدو شریف 10، لوئر دیر، تخت بائی، کاکول 5 اور بالاکوٹ 4 ملی میٹر بارش ہوئی۔
کشمیر کے علاقوں راولاکوٹ 11، مظفر آباد ایئرپورٹ 10، مظفر آباد سٹی 6، گڑھی دوپٹہ3 ملی میٹر بارش ہوئی اور بلوچستان کے ضلع بارکھان میں2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دالبندین، سبی اور جیکب آباد میں 46، نوکنڈی ، روہڑی اور موہنجو داڑو میں 45ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آج رات جنوب مشر قی، شمال مشر قی سندھ، پنجاب، کشمیر ، خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی، جنوبی بلوچستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
مزید بتایا گیا کہ جمعے کو کشمیر، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پنجاب، سندھ اور شمال مشرقی، جنوبی بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور اس دوران چند مقاما ت پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 26 سے 28 جون کے دوران موسلا دھار، شدیدموسلادھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 27 اور 28 جون کو موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار، قلات، دادو اور قمبر شہداد کوٹ میں مقامی بر ساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔
علاوہ ازیں 27 اور 28 جون کو سکھر، لاڑکانہ، میر پور خاص، حیدرآباد اور کراچی کے نشیبی علاقے بھی زیر آب آنے کا اندیشہ ہے، آندھی، جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے، کمزور انفرا اسٹرکچر ( بجلی کے کھمبے،گاڑیوں سولر پینل وغیرہ)کو نقصان کا خدشہ بھی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ شدید بارش کے باعث خیبرپختونخوا، مری، گلیات، کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان محکمہ موسمیات نے اور گرج چمک کے ملی میٹر بارش اسلام آباد شمال مشرقی کے باعث
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔