ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری ہونے کے بعد موٹر وے نے بھی دوران بارش مسافروں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔

اس وقت پنجاب کے کئی اضلاع میں طوفانی بارشیں جاری ہیں۔ جس نے جل تھل کو ایک کر دیا ہے جب کہ مون سون کے تباہ کن اسپیل نے 7 قیمتی جانیں لے لی ہیں۔

تیز بارش کے دوران ویسے تو اکثر سفر سے گریز کرتے ہیں مگر کچھ کسی مجبوری اور کچھ موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے سفر جاری رکھتے ہیں۔ ایسے میں سڑکوں پر پانی اور پھسلن سے حادثات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔موٹر وے پولیس نے بھی بارشوں کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں بارش کے دوران موٹر ویز پر سفر کرنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق آگہی دی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بارش کے دوران سڑکوں پر پھسلن ہوتی ہے جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے دوران بارش گاڑی ڈرائیو کرنے والے افراد اپنی گاڑی کی رفتار کم اور اگلی گاڑی سے فاصلہ زیادہ رکھیں۔

موٹر وے پولیس نے خاص طور پر یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ بارش کے دوران اچانک برک لگانے سے گریز کریں جب کہ پہاڑی علاقوں کی جانب سے سفر کرنے والے ڈرائیور زیادہ احتیاط برتیں۔ایڈوائزری میں موسم برسات کے دوران گاڑی کی لائٹس اور وائپر درست حالت میں رکھنے کی تاکید کے ساتھ کسی بھی مدد کی صورت میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بارش کے دوران کرنے والے موٹر وے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری