بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے اتحاد بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے 18 نکاتی مطالبات اور گرفتار قائدین و کارکنان کی رہائی کے لیے شروع کی گئی احتجاجی تحریک دوسرے روز بھی جاری ہے۔

اس احتجاج کے باعث صوبے بھر میں تمام سرکاری دفاتر، کالجز، یونیورسٹیاں اور اسکولز بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں صرف ایمرجنسی سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ دیگر تمام شعبہ جات میں کام کا مکمل بائیکاٹ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گرینڈ الائنس ملازمین اتحاد نے قلات پریس کلب کے باہر ہڑتالی کیمپ قائم کردیا

گرینڈ الائنس کا کہنا ہے کہ یہ تحریک حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر کیے گئے لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کے خلاف بطور ردعمل شروع کی گئی ہے۔

اتحاد نے واضح کیا ہے کہ احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا اور اگر حکومت نے سخت گیر رویہ ترک نہ کیا تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔

اس ضمن میں بلوچستان گرینڈ الائنس نے 28 جون کو صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

ادہر بلوچستان بار کونسل نے بھی احتجاجی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے بھر میں عدالتی کارروائیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ گرینڈ الائنس کی ریلی پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت بلوچستان کا ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا اعلان

بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، اور اس حق کو طاقت کے ذریعے دبانا نہ صرف غیر جمہوری بلکہ ناقابل قبول عمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بائیکاٹ بلوچستان بلوچستان گرینڈ الائنس قلات ہڑتال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بائیکاٹ بلوچستان بلوچستان گرینڈ الائنس قلات ہڑتال بلوچستان گرینڈ الائنس

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری