مون سون سیزن کا آغاز،ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سی ڈی اے متحرک
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
مون سون سیزن کا آغاز،ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سی ڈی اے متحرک WhatsAppFacebookTwitter 0 27 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر ممبر ایڈمن طلعت محمود کی زیر نگرانی سی ڈی اے متحرک، مون سون سیزن کا آغاز ، کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ تیاریاں مکمل، سی ڈی اے نے مون سون سیزن کی مناسبت سے خصوصی پلان مرتب کر لیا، خصوصی پلان کے تحت فلڈ ریلیف کیمپ اور دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا
فلڈ ریلیف سیل یکم جولائی سے 30 ستمبر تک قائم رہے گا، فلڈ ریلیف سیل کی سربراہی ڈائریکٹر ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کرینگے، ریلیف سیل کے لیے خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی، ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ہیلپ لائن سے بھی مدد کی جائے گی، ریلیف کیمپ میں تمام متعلقہ شعبوں کے سربراہ اپنا فوکل پرسن تعینات کرینگے، شعبہ صفائی بھی ریلیف کیمپ کے ماتحت اپنا آپریشن شروع کریگی، کچے گھر اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف خصوصی آپریشن کیا جائے گا، غیر قانونی تہہ خانوں اور نشیبی علاقوں کا سروے مکمل کر کے خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائینگی
سی ڈی اے ہسپتال میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں سٹینڈ بائی رہیں گی، سملی اور راول ڈیم میں پانی کے اتار اور چڑھاو کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر شیئرکی جائے گی۔تمام تر پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ممبر ایڈمن سی ڈی اے نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ شہر کے تمام قبرستانوں ، چار دیواری اور خستہ حال قبروں کا خصوصی جائزہ لیا جائے اور مرمت کی جائے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چالیس افراد کی موبائل ٹیمیں سٹینڈ بائی رکھی جائے ۔
Flood contingency plan 2025 (1)Downloadروزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنائب وزیراعظم جولائی میں امریکا سمیت 4 اہم ممالک کا دورہ کریں گے نائب وزیراعظم جولائی میں امریکا سمیت 4 اہم ممالک کا دورہ کریں گے آئندہ برس حج کے خواہشمندوں کیلئے حکومت کا بڑا اعلان، آخری تاریخ مقرر پاکستان نے کان کنی کی صنعت میں پہلا گولڈ سرٹیفکیشن حاصل کرلیا وفاقی حکومت نے سالانہ عبوری محصولات کے اعداد و شمار جاری کرنے پر پابندی لگادی فیصلہ سازی کا فقدان، پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی ختم کرنے کی تجویز،صرف کور کمیٹی کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا وزیر داخلہ سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے میں قیام امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی تعریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صورتحال سے نمٹنے سی ڈی اے کی جائے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ