چین نے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل روک دی، ’’آتم نربھر‘‘ بھارت کا پول کھل گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی کے بعد چین نے اب بھارت کو کھادوں کی ترسیل بھی روک دی ہے۔
خود انحصاری اور ’’آتم نربھر‘‘ کی دعویدار بھارت کی حقیقت چینی کھاد کے بغیر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ بھارت کی قیمتی فصلیں چینی کھاد کے بغیر بے یار و مددگار ہوچکی ہیں، جبکہ 80 فیصد خصوصی کھاد چین کے رحم و کرم پر ہے۔
دی اکنامک ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چین نے گزشتہ دو ماہ سے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل بند کر دی ہے۔ چین دیگر ممالک کو ان کھادوں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ پھلوں و سبزیوں کی فصلوں کےلیے بھارت کا 80 فیصد خصوصی کھاد کا انحصار چین پر ہے۔ خصوصی کھادیں فصلوں کی پیداوار، مٹی کی صحت اور غذائی اجزاء کے استعمال کو بہتر بناتی ہیں۔
چین بھارت کو براہِ راست پابندی کے بغیر مختلف طریقوں سے برآمدات روک رہا ہے۔ سرحدی کشیدگیوں اور بھارتی تجارتی پابندیوں کے ردعمل میں چین نے کھادوں کی برآمدات روکی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت چین سے جون سے دسمبر تک 1.
چین کی لگائی گئی پابندیوں نے بھارت کو غذائی عدم تحفظ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مودی سرکار کے ’’آتم نربھر‘‘ بھارت اور خود انحصاری کے نعرے محض سیاسی تماشہ ثابت ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خصوصی کھاد بھارت کو کی ترسیل چین نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔