Express News:
2026-07-24@01:36:03 GMT

پہلگام واقعے پر انڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے شور مچایا

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ مجھے تو سچی بات ہے کہ بھارت پر ترس آنا شروع ہو گیا ہے،کب سے لگا ہوا ہے پاکستان کو آئیسولیٹ کرنے کے لیے انٹرنیشنل لیول پہ، اس کا پراپیگنڈا ایک مدت تک بکتا رہا کہ دہشت گردی کو پاکستان سے فروغ مل رہا ہے، پاکستان انڈیا میں جا کر دہشت گردی کرتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے جب پہلگام کا واقعہ ہوا تو انڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے شور مچانا شروع کر دیا اورفوراً یہ کہنا شروع کہہ دیا کہ یہ پاکستان نے کیا ہے، یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ دنیا نے اس پر یقین نہیں کیا۔ 

تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ بھارت خود عالمی سطح پر رسوا ہو رہا ہے اور اپنے اعمالوں کی وجہ سے رسوا ہو رہا ہے، رسوائی ایک داغ کی طرح اس سے جڑگئی ہے جو کسی طور صاف ہو نہیں سکتا، اگر بھارت رسوا ہو رہا ہے تو یہ ہمارے لیے اچھی بات ہے، میں تو سمجھتا ہوں کہ آئندہ الیکشن بھی مودی کو جیتنا چاہیے، مودی سے زیادہ کوئی آئیڈیل امیدوار پاکستان کیلیے ہو نہیں سکتا، جو کام پاکستان نہیں کر سکتا وہ مودی جو ہے بھارت بیٹھ کہ وہاں کا وزیراعظم بن کہ بہت ہی خیر اسلوبی سے، بطریق احسن انجام دے رہا ہے۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ ایس سی او میں ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے پہلے مرحلے میں کام دکھایا، پہلے محمد عاصم ملک نے اور پھر خواجہ آصف نے دکھایا، انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی، ایک تو وہاں بلوچستان شامل ہو گیا کہ وہاںپہ انڈیا نے دہشتگردی پھیلائی ہوئی ہے اور پہلگام کو شامل کرانے میں وہ ناکام رہے، تو یہ ایسے ہی نہیں ہوا، جب آپ اپنی قوت کا اظہار کردیتے ہیں تو دنیا آپ کی بات سننے لگ جاتی ہے۔ 

تجزیہ کار شکیل انجم نے کہا کہ یہ جو ایس سی او میں ہوا ہے یہ پاکستان کے لیے عظیم کامیابی ہے، پاکستان کے موقف کو نہ صرف پوری دنیا میں بلکہ شنگھائی تعاون کی تنظیم میں بھی تسلیم کیا گیا ہے، پاکستان نے جس طرح اپنا مقدمہ اس مرتبہ پیش کیا ہے اور جس قسم کی سفارت کاری کی ہے میرا خیال ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اس کا کریڈٹ ہماری وزارت خارجہ کو بھی جاتا ہے۔ 

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ یہ گورنمنٹ کی بڑی اچھی اسٹریٹیجی تھی کہ انھوں نے بروقت فالز آپریشن کا مقابلہ کیا ، دوست ممالک سے رابطہ کیا اوربیرونی ممالک میں اپنا وفد بھیجا، اپنے آپ کو پیش کیا کہ اس کے بارے میں غیر جانبدار انکوائری کر لیں، انڈیا نے پہلگام واقعے کے بعد جو کچھ، فوری طور پر ایف آئی آر کا کٹ جانا اور اس طرح کی جو دوسری چیزیں ہیں، دنیا کے سامنے واضع ہو گیا پھر سب سے بڑی بات ہے کہ بھارت دنیا بھر میں دہشت گردی کروا رہا ہے، یہ چیزیں اب دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ انڈیا نے ہوا ہے رہا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف