اسٹیبلشمنٹ ہماری اپنی ہے، ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے میں کوئی شرم نہیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 26 جون 2025ء ) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہماری اپنی ہے، ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے میں کوئی شرم نہیں، ہم کسی موساد یا را کے ساتھ نہیں بیٹھ رہے، ہوسکتا کہ ہم اداروں کو سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ عوام میں فاصلے بڑھ رہے ہیں،آپ سیاست سے کنارہ کشی کرلیں سیاست سیاستدانوں کا کام ہے۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی ایک ذہنی مریض ہے، پاکستان کے خلاف نعرے لگا کر حکومت بنائی ، مودی نے پہلگام کا بہانہ بنایا، اسی لئے دنیا نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان میں تو درجنوں دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں لیکن پاکستان نے کبھی ایساغیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ سیاست ڈائیلاگ کانام ہے ، ہماری خواہش ہے سیاسی لوگ بیٹھ کرمسائل کا حل نکالیں، میرا نہیں خیال کہ کسی مسکراہٹ یا ہاتھ ملانے سے بات آگے بڑھ سکتی ہے، حکومت کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ بڑے دل کا مظاہرہ کرے ، حکومت ایسے حالات بنائے جس سے ڈائیلاگ کا ماحول بنے، حکومت کو پتا ہے ان کے پاس کتنا اختیار ہے، ایک بااختیار حکومت سے ہم بات کریں تو کوئی بات نہیں،ہم پر الزام ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے میں کوئی شرم نہیں ، ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ ہے، ہم کسی موساد یا را کے ساتھ نہیں بیٹھ رہے، اپنے اداروں کو سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ کی وجہ سے عوام میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ آپ سیاست سے کنارہ کشی کرلیں سیاست سیاستدانوں کا کام ہے۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ ایران جنگ میں کہا گیا کہ اگلا نشانہ پاکستان تو نہیں ہے؟ یقین سے کہتا ہوں کہ پرسکون ہوکر سوئیں، کیونکہ ہم کئی مرتبہ ثابت کرچکے ہیں کہ ہم اپنے بچوں اوراپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ بھارت پہلی بار حملہ کیا تو دو جہاز گرائے دوسری بار حملہ کیا تو 6 جہاز گرائے، اب اگلی بار کوشش کریں گے تو 60 جہاز گرائیں گے۔ ہم کئی ممالک میں گئے کوئی ایک بندہ تو کہتا کہ آپ جنگ برابر کرکے نکلے ہیں۔پاکستان کی جتنی جھڑپیں ہوئیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ساری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوجائے ،پاکستان کی آج سفارتی کامیابی عسکری کامیابی کا نتیجہ ہے۔ہم دنیا کو یہ نہیں کہتے کہ ہمارے اتنے جہاز گر گئے، ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ جیت کر آئے ہیں مانتے ہو؟ آگے سے دنیا کہتی کہ مانتے ہیں۔بھارت کا 6 گناہ بڑی فوج اور 9 فیصد زیادہ دفاعی اخراجات کا نقاب اتر گیا۔ہمارا دنیا کوپیغام امن اور مذاکرات کا تھا، کیونکہ ہم کہتے تھے کہ جنگ دنیا کے امن اور لوگوں کی غربت کیلئے اچھی نہیں ہے۔خطے کے چوہدری نے اگر حملہ کرنا ہے تو کرکے دیکھ لے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسٹیبلشمنٹ سے بات
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ