data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کی مسلح افواج پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان سے حالیہ معرکہ آرائی میں فرانس کے تیار کردہ رافیل طیاروں کی تباہی نے بھارتی فضائیہ کی اپنی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے اور دوسری طرف دیگر طاقتوں سے جدید ترین طیارے خریدنے کی ضرورت بھی شدید تر کردی ہے۔

روس بھی جدید ترین لڑاکا طیارے بنانے والے ملکوں میں بہت نمایاں ہے۔ اُس کی اپنی فضائیہ بہت مضبوط ہے اور وہ اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ لڑاکا طیارے، میزائل اور ڈرونز تیار کر رہا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں روس سے Tu-160 طیارے خریدنے کی بات کی تھی۔ اس حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے اور روس نے یہ طیارے دینے پر آمادگی بھی ظاہر کی مگر اب معاملات رُل سے گئے ہیں۔

بھارتی قیادت چاہتی ہے کہ روس یہ طیارے جلد از جلد فراہم کرے مگر روسی حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ میں استعمال کے لیے اُسے زیادہ طیاروں کی ضرورت ہے اس لیے فی الحال بھارت کو ترجیحی بنیاد پر طیارے فراہم نہیں کیے جاسکتے۔

بھارتی فضائیہ کی ہدف پذیری نمایاں ہوچکی ہے۔ پاکستان کے مقابل اُس کی کمزوری اِس قدر کُھل کر سامنے آئی ہے کہ اب وہ کئی ممالک سے جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل طیارے اور ڈرونز حاصل کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ مودی سرکار پر دفاعی سَودے جلد از جلد نپٹانے کے حوالے سے غیر معمولی دباؤ ہے۔ سیاسی عزم کی کمی کے باعث بھارت کی مسلح افواج کو جدید رجحانات اور ٹیکنالوجیز کا حامل بنانا بہت بڑے دردِ سر میں تبدیل ہوچکا ہے۔

بھارت کی مسلح افواج کو بہت کچھ بہت تیزی سے چاہیے۔ ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ دنیا بھر میں خانہ جنگیاں چل رہی ہیں۔ جدید ترین اسلحہ، طیارے، ڈرونز، ہیلی کاپٹرز، میزائل، آبدوزوں اور دیگر ساز و سامان کے حصول کی دوڑ سی شروع ہوگئی ہے۔ اِس کے نتیجے میں قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار