ویسٹ انڈیز بمقابلہ آسٹریلیا ٹیسٹ: ٹی وی امپائر کڑی تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز ٹی وی امپائر ایڈرین ہولڈ سٹاک ویسٹ انڈین کپتان روسٹن چیز کو متنازع آؤٹ قرار دینے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
بارباڈوس میں جاری ٹیسٹ میں امپائروں کی جانب سے پہلے ہی متعدد متنازع فیصلے دیے گئے ہیں۔ پہلے روز کے کھیل میں آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر ٹی وی اپمائر نے کاٹ بی ہائنڈ کی اپیل پر ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔
جس کے بعد دوسرے روز روسٹن چیز کو ٹی وی امپائر نے ایل بی ڈبلیوکی اپیل پر ناٹ آؤٹ قرار دیا تھاحالانکہ ری پلے میں گیند کو پہلے پیڈ پر لگتے دِکھایا گیا تھا۔
لیکن سب سے متنازع فیصلہ ویسٹ انڈیز اننگز کے 50 ویں اوور میں کیا گیا جب روسٹن چیز کے خلاف آن فیلڈ امپائر کے فیصلے کو برقراررکھا گیا۔ پیٹ کمنز کی گیند پر وہ ایل بی ڈبلیو ہوئے اور آؤٹ دیے جانے پر انہوں نے فوراً ٹی وی امپائر سے رجوع کیا۔
ری پلے کے دوران آواز اور تصویر میں عدم مطابقت کی وجہ سے معاملہ مبہم رہا۔ ٹی وی امپائر نے گیند اور بلے کے درمیان فاصلہ محسوس کیا جس سے گیند کے بلے سے نہ ٹکرانے کا نتیجہ اخذ کیا۔ بعد ازاں بال ٹریکنگ میں تینوں مرحلوں پر سرخ رنگ دکھنے پر روسٹن چیز کو آؤٹ قرار دیا گیا۔
کمنٹری بکس میں موجود ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر آئن بشپ نے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے، وہ ٹیکنالوجی سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے گیند بلے سے لگی ہےلیکن بہرکیف یہ فیصلہ روسٹن چیز کے خلاف کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی وی امپائر ویسٹ انڈیز روسٹن چیز
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز