ڈسکہ کے خاندان سمیت 17 سیاح سوات ریلے میں بہہ گئے‘ 9 نعشیں برآمد‘4 افسر معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سوات+ پشاور+ سیالکوٹ + اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ بیورو رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ) خیبر پی کے میں شدید بارشوں سے دریائے سوات بپھر گیا، سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی۔ ایک ہی خاندان کے 18 افراد سمیت 78 افراد بہہ گئے۔ 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 60 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ پاک فوج کے دستے بھی امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے بتایا کہ ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 18 افراد ڈوب گئے، ان میں سے 9 کی نعشیں ملی ہیں، 3 کو بچا لیا گیا۔ 6 کی تلاش جاری ہے۔ انہیں دریا پر جانے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ سوات حادثہ میں 4 افراد کا تعلق محلہ لالاریاں اور 4 کا تعلق پرانا ڈسکہ سے تھا۔ محسن اپنی فیملی بیوی، 4 بیٹیاں گزشتہ رات سوات گئے، محسن کے ساتھ ایک ہی کوسٹر میں 35 افراد شامل تھے جن کا تعلق ڈسکہ سے ہے، گاڑی میں محسن کا ہم زلف اور اس کی فیملی، دوست کی دو فیملیاں اور محسن کے ساس سسر شامل تھے۔ محسن کی 4 بیٹیاں سیلفی لینے پانی میں گئیں اور پانی کی نذر ہو گئیں۔ بچیوں میں سب سے بڑی 17 سالہ میرب سیکنڈ ائیر کی سٹوڈنٹ15 سالہ اجوا میٹرک کی سٹوڈنٹ، 12 سالہ شال ساتویں کلاس کی سٹوڈنٹ،7 سالہ انفال تیسری کلاس میں پڑھتی تھی، ان میں عجوہ اور میرب کی ڈیڈ باڈی مل گئیں۔ ڈیڈ باڈی میں محسن کی سالی توبینہ اسلام، 6 سالہ بچہ ایان شہباز، ایک ڈاکٹر، ایک خالہ کی بیٹی کی ڈیڈ باڈی کی شناخت ہو گئی ہے۔ مالا کنڈ ڈویژن کے تمام دریاؤں میں نہانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ جبکہ صوبائی حکومت نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت 4 افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے کے احکامات کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سوات میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات احسان الحق‘ اسسٹنٹ کمشنر بابو زئی سوات‘ اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ سوات اور ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات سعد خان کو معطل کر دیا۔ سوات واقعہ کی تحقیقات کیلئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے حکم پر انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ صدر مملکت آصف زرداری‘ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔