سوات: سیلاب صورتحال میں غفلت برتنے پر اعلیٰ افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سوات میں سیلابی صورتحال کے دوران غفلت برتنے والے اعلی افسران کو معطل کردیا۔ وزیراعلیٰ پختونخوا کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو معطل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان فراز احمد مغل نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کو بروقت اقدامات نہ اٹھانے پر معطل کیا گیا۔
اسسٹنٹ کمیشنر خوازہ خیلہ کو پیشگی وارننگ نہ دینے پر معطل کیا گیا جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کو بروقت اقدامات نہ کرنے اور اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر معطل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پختونخوا کے ترجمان فراز احمد مغل کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف انکوائری کی جائے گی، وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کو باقاعدہ طور پر انکوائری کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ دریائے سوات میں سیلاب کے باعث مختلف مقامات پر ایک ہی خاندان کے 18 افراد سمیت 75 سے زاید افراد بہہ گئے ہیں جن میں سے 58 کو بچا لیا گیا ہے، 10 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور دیگر افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معطل کیا گیا
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔