’کانٹا لگا‘ سے شہرت پانےو الی شیفالی جریوالاکی اچانک موت، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
’مشہور گانے کانٹا لگا‘ سے شہرت پانے والی شیفالی جریوالا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔
ان کی عمر 42 سال تھی۔ یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی شب ممبئی میں پیش آیا۔ وہ اپنے شوہر پراگ تیاگی کے ساتھ تھیں جب ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:عامر خان کی فلم ’ستارے زمین پر‘ کی منفرد ریلیز پالیسی سامنے آ گئی
ڈاکٹروں نے ان کی موت کی وجہ کارڈیک اریسٹ یعنی دل کا دورہ بتایا ہے۔ ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تاکہ موت کی مزید تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔
شیفالی کی اچانک موت نے ان کے مداحوں اور بھارتی شوبز انڈسٹری کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات نے ان کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا۔
معروف گلوکار میکا سنگھ اور اداکار علی گونی سمیت کئی فنکاروں نے ان کی موت کو ’ناقابل یقین‘ قرار دیا اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
ان کے آخری انسٹاگرام پوسٹ ’ Bling it on baby! ‘ کو مداح اب ان کی یاد میں شیئر کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:’پاکستانی کھلاڑیوں کو کیوں منتخب کیا؟‘، شاہ رخ خان بڑی مشکل میں پھنس گئے
شیفالی جریوالا کو 2002 میں آئے میوزک ویڈیو ’کانٹا لگا‘ سے شہرت ملی تھی۔ اس گانے میں ان کا انداز اور ڈانس بہت مقبول ہوا اور وہ راتوں رات اسٹار بن گئیں۔
اس کے بعد انہوں نے کئی اور میوزک ویڈیوز، ٹی وی شوز اور فلموں میں کام کیا۔ 2004 میں فلم ’مجھ سے شادی کروگی‘ میں انہوں نے ایک چھوٹا کردار ادا کیا۔
انہیں ’بگ باس 13‘ میں شرکت کے بعد نئی نسل نے بھی پہچانا، جہاں ان کا رویہ اور انداز مداحوں کو خوب بھایا۔ شیفالی نے ’نچ بلیے‘ جیسے رئیلٹی شوز میں بھی حصہ لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لگاتار 20 سال سے بولی ووڈ کی امیر ترین اداکارہ کون ہیں؟
شیفالی جریوالا
کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ جوانی میں وہ ایک بیماری (ایپیلپسی – مرگی) سے متاثر رہیں، جس کی وجہ سے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں مشکلات پیش آئیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور زندگی میں آگے بڑھتی رہیں۔ وہ کئی فلاحی کاموں سے بھی وابستہ رہیں۔
شیفالی جریوالا کا مختصر تعارف:
شیفالی جریوالا 15 دسمبر 1982 کو احمد آباد، بھارت میں پیدا ہوئیں۔ وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شوبز کی دنیا میں آئیں۔
انہیں 2002 کے گانے ’کانٹا لگا‘ سے شہرت ملی۔ وہ ایک مشہور ماڈل، اداکارہ اور ڈانسر تھیں۔ ان کی شادی اداکار پراگ تیاگی سے ہوئی تھی۔ وہ ’بگ باس 13‘، ’نچ بلیے‘ اور متعدد میوزک ویڈیوز کے ذریعے مشہور ہوئیں۔
ان کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے محدود مگر یادگار کام سے اپنی پہچان بنائی۔ ان کی موت نے شوبز انڈسٹری کو ایک گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایپیلپسی شیفالی جریوالا علی گونی کانٹا لگا مرگی میکا سنگھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی گونی کانٹا لگا مرگی میکا سنگھ
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور