وزارت داخلہ کی تیونس کی خاتون کو فوری ایگزٹ پرمٹ جاری کرنے کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسکرین گریب
وزارت داخلہ کی نارتھ افریقی ملک تیونس کی رہائشی 19 سالہ سندا ایاری کو فوری ایگزٹ پرمٹ جاری کرنے کی پیشکش کر دی۔
نیونس کی لڑکی کی کراچی میں شادی اور پھر طلاق کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوٹس لے لیا۔
جیو نیوز کی خبر پر وزارت داخلہ کے ویزا حکام نے سندا ایاری کی دستاویزات طلب کر لیں، خاتون کو ایگزٹ پرمٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ویمن پولیس اسٹیشن کے مطابق تیونس کی خاتون کو شوہر نے گزشتہ ہفتے طلاق دے دی تھی، غیر ملکی خاتون نے ویمن پولیس اسٹیشن لیاقت آباد میں رپورٹ درج کروائی تھی۔
کراچی کے شہری کی محبت میں تیونس سے آنے والی خاتون تھانے پہنچ گئیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کا 90 دن کا پاکستانی ویزا فروری میں ختم ہو چکا ہے۔ پولیس نے خاتون کو پناہ دی ہے، اس کا خیال رکھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اس لڑکی کی اولڈ سٹی ایریا کے علاقے نیا آباد کھڈا مارکیٹ لیاری کے رہائشی محمد عامر سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، جنونی محبت میں مبتلا ہو کر دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا جس کے لیے سندا پاکستانی ویزا حاصل کر کے 28 نومبر 2024ء کو کراچی پہنچ گئی۔
لڑکی کو عامر اور دیگر نے کراچی ایئر پورٹ سے ریسیو کیا۔ اگلے ہی دن عامر کے اہلِ خانہ نے ایک تقریب میں دونوں کی شادی کروا دی۔ نکاح نامہ 6 مارچ کو لیاری کی یونین کونسل بغدادی میں رجسٹرڈ ہوا۔
خاتون کے مطابق شادی کے بعد وہ خوش و خرم رہے، چند ماہ قبل دونوں میں معمولی باتوں پر تلخیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں، جس کے بعد عامر نے اسے طلاق دے دی۔ لڑکی کے مطابق وہ اب اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خاتون کو کے مطابق تیونس کی کی خاتون
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت