مدعی کی ٹوائلٹ سے عدالت میں آن لائن حاضری، جج سمیت سب حیران
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
مدعی کی ٹوائلٹ میں بیٹھ کر عدالت میں آن لائن حاضری نے جج سمیت سب کو حیران کر دیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 جون کو بھارتی جج جسٹس نرزار ایس دیشائی کی عدالت میں ایک شخص کا ورچوئل سماعت کے دوران ٹوائلٹ سے آن لائن آنا سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ یہ واقعہ قانونی پلیٹ فارم بار اینڈ بینچ کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد توجہ کا مرکز بنا۔
رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا نام سماد بیٹری بتایا گیا تھا، جو ابتدا میں صرف اپنے گلے میں بلوٹوتھ ایئر فونز کے ساتھ کلوز اپ فریم میں دکھائی دیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد اس نے کیمرہ اینگل تبدیل کیا اور یہ منظر سامنے آیا کہ وہ ٹوائلٹ میں بیٹھا ہے۔
بار اینڈ بینچ کے مطابق عدالت کے ریکارڈز میں اس شخص کی شناخت اصل مدعی کے طور پر ہوئی، جو ایک ایف آئی آر کے خارج کرنے سے متعلق کیس میں شامل تھا۔ سماعت کے دوران وہ ایک مدعا علیہ کے طور پر پیش ہوا۔ عدالت کو دونوں فریقین کی جانب سے دوستانہ سمجھوتے کی اطلاع دی گئی جس کے بعد ایف آئی آر کو خارج کر دیا گیا۔
ویڈیو میں مذکورہ شخص کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اور اسے عدالتی آداب کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔