فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خیبر پختونخوا پولیس کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت پر زور ، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا اور پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں انہیں سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔
آئی ایس پی آر نے بتایاکہ فیلڈ مارشل نے بنوں گیریژن کے واقعے کے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور بنوں سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت کی۔فیلڈ مارشل نے سکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل حوصلے اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہاکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہے، دہشت گردوں کے تمام سہولت کاروں، مددگاروں اور مجرموں کا بے رحمی سے تعاقب کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور خطے میں دہشت گردی کے اصل چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
شہریوں کو موبائل فون پر موسمی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
فیلڈمارشل کا کہنا تھاکہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا اور پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کی صلاحیت میں اضافے اور بالخصوص خیبر پختونخوا پولیس کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں فوری اور ترجیحی اقدامات کےلیے متعلقہ حکومتی اداروں پر زور دیا۔فیلڈ مارشل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے میں فوج کی حمایت کا اعادہ کیا۔خیال رہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 13 فوجی شہید ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز نے 14 خوارج ہلاک کردیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر کبھی رائے نہیں دیتا، بیرسٹر گوہر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل نے جائے گا ا ایس پی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔