شہریوں کو موبائل فون پر موسمی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر میں بارشوں اور سیلابی صورتحال پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو شہریوں کے موبائل فون پر پیغامات کے ذریعے موسمی صورتحال کی پیشگی اطلاع دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ڈان نیوز کے مطابق چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ٹیلی فونک رابطے میں وزیراعظم شہباز شریف کو ملک میں حالیہ بارشوں کی صورتحال پرآگاہی فراہم کی۔
وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ملک بھر میں اور بالخصوص بالائی علاقوں میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔شہباز شریف نے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ریسکیو اداروں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں سے رابطے مزید فعال کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں سے 5 خواتین اور 8 بچوں سمیت 19 افراد جاں بحق جب کہ 6 زخمی ہوگئے، سیلابی ریلے کے باعث سوات سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 13 افراد جان کی بازی ہارگئے۔ْ
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر کبھی رائے نہیں دیتا، بیرسٹر گوہر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔