وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور مارکو روبیو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوشگوار موڈ میں نظر آئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کمپنی دی۔ یہ ہلکے پھلکے لمحے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیے۔
وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے اوول آفس پہنچے تو ٹرمپ اس وقت پریس کانفرنس کر رہے تھے، وہاں انہوں نے کہا کہ ہمیں دیر ہوگئی ہے، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اوول آفس پہنچ چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اوول آفس پہنچنے تک وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کمپنی دی۔ یہ ہلکے پھلکے لمحات کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر دیکھ کر بعض صارفین نے کہا کہ وہ اسے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کے اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ پن پہن کر مودی کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔
ایک تصویر میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مارکو روبیو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوشگوار موڈ میں نظر آئے۔ فیلڈ مارشل نے جب مارکو روبیو سے سرگوشی کی، تو وہ لمحہ بھی قید ہوگیا۔ شہباز شریف دونوں ہاتھ اٹھا کر کسی دلچسپ نکتے کی وضاحت کرتے بھی دیکھے گئے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم رہنما اور شاندار شخصیت قرار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر سے ملاقات سے قبل ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر شاندار شخصیت ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر کی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارکو روبیو ڈونلڈ ٹرمپ صدر ڈونلڈ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔