وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ تک  جاری رہنے والی اس ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس اعلیٰ سطحی ملاقات پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا پر متعدد بھارتی شہریوں نے اپنے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کے باعث پاکستان بین الاقوامی سطح پر زیادہ مضبوط مؤقف کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ٹرمپ اور شہباز کی ملاقات کو کیسے کور کیا؟

ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ مودی کی غلطیوں نے وہ کر دکھایا جو پاکستان کی کوئی حکمتِ عملی نہ کر سکی۔ انہوں نے عاصم منیر کو پاکستان کے سابق تمام آرمی چیفس سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔

صارف کا مزید کہنا تھا کہ یہ کوئی ’شاطر سفارت کاری‘ نہیں، بلکہ کھلی حماقت ہے جو بھارت کو عالمی سطح پر کمزور اور ہمارے حریفوں کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔

Modi’s blunders have done what no Pakistani strategy could, made Asim Munir more powerful than any Pak army chief before him.

????‍♀️

This isn’t “masterstroke diplomacy,” it’s sheer stupidity that keeps weakening India abroad while empowering our rivals. pic.twitter.com/QesS7pt1PN

— Tejasswi Prakash (@Tiju0Prakash) September 25, 2025

اشوک سوائن لکھتے ہیں کہ نہ صرف پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف بلکہ آرمی چیف عاصم منیر کو بھی واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل ریڈ کارپٹ استقبال اور شاندار خیرمقدم دیا گیا۔ مودی کی بیوقوفی نے عاصم منیر کو پاکستان کے تمام سابق آرمی چیفس سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔

Not only Pakistani PM Sharif but also Pakistani army chief Munir are given red carpet reception and spectacular welcome to Washington DC before their meeting President Trump. Modi’s stupidity has made Munir more powerful than any Pakistani army chief! pic.twitter.com/fJuaBA75XX

— Ashok Swain (@ashoswai) September 25, 2025

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں 90 منٹ طویل بند کمرہ ملاقات کی، جس کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد دونوں پاکستانی رہنماؤں کو ’بہت زبردست شخصیات‘ قرار دیا۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، جو بھارت کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے ان سے بھی دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد امریکا نے ترکی پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا اور ترکی کو ایف-35 پروگرام میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔ ملاقات میں دفاع، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات، ’اب پاکستان کو مچھلی کھانے کے بجائے پکڑنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے‘

یہ تمام سفارتی پیش رفت بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور جیوپولیٹیکل منظرنامے میں کئی اہم تبدیلیاں بھارت کے مفادات کے خلاف جا رہی ہیں۔

Trump had a closed door meeting for 90 minutes with Pakistan’s Prime Minister and army chief. No details of meeting is available. He praised both as very great guys.

Turkey under Erdogan is very hateful of India. Erdogan again raised Kashmir issue in UN. Trump had a 2 hour…

— D.Muthukrishnan (@dmuthuk) September 26, 2025

واضح رہے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’عظیم رہنما‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو عظیم رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں ہی بہترین شخصیات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی چیف عاصم منیر ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ اور شہباز شریف ملاقات شہباز شریف مودی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف عاصم منیر ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ اور شہباز شریف ملاقات شہباز شریف عاصم منیر کو شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے آرمی چیف

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ