امریکی صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کی آج کی مصروفیات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
نیویارک، اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف واشنگٹن سے نیو یارک پہنچ گئے جہاں وہ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین، پاک بھارت کشیدگی سمیت اہم اشوز اجاگر کریں گے، مشرق وسطیٰ میں قیام امن سے متعلق بھی امور اجاگر کیے جانے کا امکان ہے۔
ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم رہنما اور شاندار شخصیت قرار دیا۔
امریکی صدر سے ملاقات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی وفد کے ہمراہ واشنگٹن کے اینڈریوز ائیر بیس پہنچے تو انکا ریڈ کارپٹ پر امریکی ائیر فورس کے اعلیٰ عہدیدار نے استقبال کیا۔ وزیرِ اعظم کا موٹرکیڈ امریکی سکیورٹی کے حصار میں ائیربیس سے روانہ ہوا تھا۔
اؒلحمدللہ، پاک امریکا سربراہان کی تاریخی ملاقات پر خواجہ آصف کا ردعمل سامنے آ گیا
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز غزہ میں جنگ بندی سے متعلق صدر ٹرمپ سے مسلم رہنماؤں کی ملاقات کو مفید قرار دیاتھا، ان کا کہنا تھا کہ اب اگلا مرحلہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں طے کیے گئے نکات پر عمل درآمد کا ہے۔انہوں نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہاکہ معرکہ حق میں پاکستانی افواج نے ہندوستان کو شکستِ فاش دی، بھارت کا غرور خاک میں ملادیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح جنگیں لڑی جاتی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز