اسلام آباد ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس یکم جولائی کو ہوگا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی صدارت کریں گے۔

صدر مملکت کی جانب سے ہائیکورٹ کے ججوں کی سینیارٹی لسٹ جاری کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 سینیئر ججوں کے ناموں پر غور ہوگا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر صدر مملکت آصف زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے تعین سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس سرفراز ڈوگر کو عدالتِ عالیہ کا سینیئر ترین جج قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، صدرِ مملکت نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر کو سینیارٹی میں سرفہرست، جسٹس محسن اختر کیانی کو دوسرے جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔

مزید برآں، جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف کے مستقل تبادلوں کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ فیصلہ اعلیٰ عدلیہ میں سینیارٹی سے متعلق جاری مباحثے میں ایک واضح پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں ججز کی تعیناتی اور عدالتی نظم و نسق پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس خادم حسین سومرو جسٹس سرفراز ڈوگر جسٹس محمد آصف جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس سینیارٹی مستقل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس سینیارٹی مستقل چیف جسٹس یحیی ا فریدی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن