اسلام آباد میں مساجد کو شہید کرنیکا فیصلہ عذاب الہٰی کو دعوت دینا ہے، کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اجلاس سے خطاب میں صوبائی امیر نے کہا کہ سندھ حکومت سیکیورٹی کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور قیام امن مین مکمل ناکام ثابت ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈمپرز اور باقی سندھ میں ڈاکو راج، منشیات فروشوں اور سسٹم کا راج ہے، پھر ان سب کو حکومتی پارٹی میں شامل بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے، مراد علی شاہ کی سندھ حکومت سیکیورٹی کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور قیام امن مین مکمل ناکام ثابت ہوئی، اسلام آباد میں پچاس مساجد مدارس کو شہید کرنے کا فیصلہ اور راتوں رات مدنی مسجد کو شہید کرنا ظلم اور عذاب الہٰی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہران مرکز سکھر میں سکھر ڈویژن کے ہر سطح کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی نائب امیر پروفیسر نظام الدین میمن، قیم صوبہ محمد یوسف، نائب قیمین مولانا حزب اللہ جکھرو اور امداداللہ بجارانی بھی ساتھ موجود تھے۔ اجلاس میں کارکردگی رپورٹ، بدامنی، مہنگائی، عوامی کمیٹیوں کا قیام سمیت دیگر دعوتی و تنظیمی امور کا جائزہ لیا گیا۔
کاشف سعید شیخ نے کہا کہ عملی طور میں سندھ میں ڈاکو اور کرپشن کا راج ہے، جس کی وجہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ سمیت ہر شعبہ تباہ ہے، صرف صوبائی دارلخلافہ روشنیوں کے شہر کراچی میں رواں سال کے سات ماہ کے دوران 500 سے زائد افراد ٹریفک حادثات اور ڈمپرز کے ٹکر سے جان کی بازی ہار چکے ہیں، صوبے کے دوسرے شہروں کا تو حساب ہی نہیں ہے، یہ ٹریفک پولیس سمیت سندھ حکومت کی نااہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوروں، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں کو مکمل چھوٹ، عوام کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں، سندھ حکومت کی ترجیح عوام کے جیبوں پر ڈاکہ صرف گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کی تبدیلی ہے، دودھ اور پانی بیچنے والے پارٹی رہنما تو کھرب پتی بن گئے، مگر سندھ کے عوام آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر، حیدرآباد، کراچی سمیت کئی شہروں کے عوام پینے کے پانی کیلئے بھی پریشان ہے، جو پارٹی سترہ سال تسلسل کے ساتھ اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کو پینے کا پانی بھی فراہم نہ کر سکے، ان سے بہتری کی امید مزید کیا کی جا سکتی ہے۔
صوبائی امیر نے کہا کہ تیل گیس کوئلے جیسی قدرتی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود نااہل قیادت کی وجہ سے سندھ کے عوام غربت و افلاس اور محرومیوں کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اہل اور دیانتدار قیادت ہی سندھ کی ترقی عوام کے مسائل حل اور ان کو اپنے حقوقِ دلا سکتی ہے، عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، ذمہ داران عوامی رابطہ کمیٹیاں قائم کرکے عوام کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد تیز کردیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ملکی پیداوار میں سب سے زیادہ گیس و بجلی دینے کے باوجود صوبہ میں 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کے ذریعے بننے والی بجلی سے دوسرے صوبے میں کارخانے چلتے ہیں، مگر سندھ میں اندھیروں کا راج ہے، اس کی واحد ذمہ دار مفادت پرست حکمران پارٹی ہے، جس نے اقتدار کے بدلے پانی پر ڈاکہ، زمینوں کی بندر بانٹ، گورکھ ہل، کارونجھر جبل کی کٹائی سے لیکر ہر جگہ سندھ برائے فروخت کے بورڈ لگا رکھے ہیں، بجلی، گیس، تیل، کوئلہ سمیت قدرتی وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کو جوان کا آئینی حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے باوجود کے عوام سندھ کے عوام کے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔